خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 226

1957ء 226 31 خطبات محمود جلد نمبر 38 مساجد تعمیر کرنا اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے (فرموده 8 نومبر 1957 ء بمقام دارالذکر لاہور ) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ذاورسو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو آپ کے چچا حضرت عباس مکہ میں ہی رہ گئے تھے۔ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر جب ہجرت کے متعلق مشورہ ہوا تو حضرت عباس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس مشورہ میں شامل تھے۔ یوں تو وہ آپ کو مانتے تھے لیکن دوسروں سے اپنے اسلام کو خفی رکھتے تھے۔ حج کے موقع پر حاجیوں کو پانی پلانے کا کام بھی ان کے سپرد تھا۔ پر علیؓ ما۔ ایک دفعہ کسی بات پر حضرت علیؓ کا حضرت عباس سے جھگڑا ہو گیا تو انہوں نے کہا ہم تو خدا تعالی کے رسول اور اس کے دین کی خدمت کرتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں ہم نے اپنی جانوں کی بھی پروا نہیں کی۔ چنانچہ ہم نے اسلام کی خاطر لڑائیاں لڑیں اور بڑی بڑی قربانیاں کیں ۔ ہمارے سامنے آپ لوگوں کی حیثیت ہی کیا ہے؟ آپ تو اُس وقت مکہ میں بیٹھے تھے۔ اس پر حضرت عباس نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ میں ہجرت کے وقت مکہ میں رہ گیا اور آپ لوگ خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر جہاد کرتے رہے