خطبات محمود (جلد 38) — Page 183
1957ء 183 خطبات محمود جلد نمبر 38 اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود ملے گا۔ چنانچہ دیکھ لو یہ نظارہ ایسا ہے جو اس دنیا میں نظر آ رہا ہے۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا کہ آ رہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگاہ زندہ وار 2 ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ بڑے بڑے عیسائی جو عیسائیت پر جان دیا کرتے تھے اب اسلام کی تعریف میں کلمات کہہ رہے ہیں۔ اور وہی عیسائی مصنف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر کئی قسم کے الزامات لگایا کرتے تھے اب ان کو غلط قرار دے کر ان کی تردید کر رہے ہیں۔ یہی وہ امر ہے جس کی طرف ان آیات میں توجہ دلائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم قُرْآنَ الْفَجْرِ کو لازم پکڑ ویعنی جب پھر اسلام کا نور پھیلنے لگے اور اسلام پر فجر کا زمانہ آجائے تو تم قرآن کریم کو پھیلانے کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ مشہود کے معنے صرف یہی نہیں ہوتے کہ کوئی آ کر دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ جیسے مسلمانوں نے کہہ دیا کہ اگر صبح کی نماز کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کی جائے تو فرشتے آ کر سنتے ہیں۔ بلکہ مشہود کے معنے عزت والی چیز کے بھی ہوتے ہیں۔ دنیا میں لوگ اُسی چیز کو دیکھنے کے لیے جایا کرتے ہیں جس کی عزت اور شہرت قائم ہو۔ جیسے قطب صاحب کی لاٹ ہے۔ لوگ اسے اکثر دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ اُس کی شہرت ہے اور وہ مسلمانوں کی نگاہ میں معزز ہے۔ اسی طرح اگر حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کو کوئی نہ جانتا، حضرت معین الدین صاحب چشتی کو کوئی نہ جانتا، حضرت بختیار کا کی صاحب کو کوئی نہ جانتا تو لوگ ان کے مزار پر کیوں جاتے؟ اگر حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج والوں کو کوئی نہ جانتا تو اُن کا دروازہ دیکھنے کے لیے لوگ کیوں جایا کرتے ؟ اسی طرح ملتان میں کئی بزرگوں کی قبریں ہیں۔ اگر پہلے سے اُن کی شہرت نیک قائم نہ ہوتی تو لوگ ان بزرگوں کے مقابر دیکھنے کے لیے کیوں جاتے؟ یہی مفہوم اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا کا ہے کہ وہ شخص جو ایسے نور کے وقت میں قرآن کریم کی اشاعت کرے گا اور اس کے علوم کو پھیلائے گا اور اس کے احکام کو رائج کرے گا اس کی اس کوشش اور جدو جہد کے نتیجہ میں جہاں قرآن کی عظمت قائم ہوگی وہاں ساتھ ہی اس کی عزت بھی قائم کر دی جائے گی۔ جیسے نظام الدین صاحب اولیاء کے مقبرہ کی