خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 176

1957ء 176 خطبات محمود جلد نمبر 38 محفوظ ہو جائے اور بری تقدیر اس پر نازل ہی نہ ہوا کرے ۔ گویا صرف اتنا ہی تغیر نہیں ہو سکتا کہ کچھ بُری تقدیر میں آجائیں اور کچھ اچھی بلکہ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۔ اگر آسمان پر جا کر کوئی شخص اُس کی مرمت کر دے اور اُس کے تمام سوراخوں کو بند کر دے۔ تو خواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتنا بھی عذاب مقد رہو اور خواہ کتنی بھی خطرناک تقدیر میں مقد رہوں اُس کی دعائیں ہر قسم کی بری تقدیروں کو روک دیتی ہیں۔ دیکھو! دعا تو بڑی چیز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا يَا رَسُولُ اللہ ! میرے بھائی کو اسہال آ رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور اس نے شہد پلایا مگر اسہال زیادہ ہو گئے ۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا۔ آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ جاؤ اور شہد پلاؤ۔ وہ پھر گیا اور اس نے شہد پلایا مگر اسہال پھر زیادہ ہو گئے ۔ اس پر وہ تیسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اور خدا کا کلام سچا ہے۔ جاؤ اور اُسے شہد پلاؤ ۔ یعنی جب خدا نے شہد کے متعلق فرمایا ہے کہ اس میں شفا یعنی کے ہے تو خدا تعالیٰ کی بات کس طرح غلط ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اس نے پھر شہد پلایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کے اندر سے ایک سخت شدہ نکلا اور اُسے شفاء ہو گئی ۔2 شدہ نکلا اور اسے شفاء ہوئی 2 اب دیکھو! یہ بھی ایک خدائی تقدیر تھی مگر شہد دعا کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ دعا تو ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے عذابوں کو دور کر دیتی ہے۔ اور دعا ایسا تریاق ہے جو قوموں کے عذابوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ بہر حال جس طرح شہد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں شفا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے خدا کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح دعا کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ 3 یعنی جب مجھ سے کوئی پکارنے والا دعا کرتا ہے تو میں اُس کی دعا کو قبول کرتا ہوں ۔ ضرورت صرف یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے لیے صحیح راستہ اور نیکی کا راستہ تجویز کرے۔ اسی طرح فرماتا ہے کہ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ 4 کہ مضطر کی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون دعا سنتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر مضطر کی دعا سنتا ہوں تو یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کی دعارڈ ہو جائے گی ۔ آخر تقدیر کا زیادہ تر اثر مضطر پر ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ مضطر وہی ہوتا ہے جس کو اپنی نجات اور کامیابی کا