خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 154

1957ء 154 (19 خطبات محمود جلد نمبر 38 مومن کو چاہیے کہ وہ ہر حالت میں میانہ روی سے کام لے فرمودہ 12 جولائی 1957ء) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسان کی پیدائش خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ افراط اور تفریط دونوں ہی اس کے لیے مضر ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ ظاہری موسم کی افراط اور تفریط بھی اسے نقصان پہنچاتی ہے۔ زیادہ گرمی ہو تو وہ بھی صحت کو خراب کر دیتی ہے اور زیادہ سردی ہو تو وہ بھی صحت کو خراب کر دیتی ہے۔ یہی کیفیت اخلاقی اور روحانی امور کی بھی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک جگہ مالی معاملات کے متعلق ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر تم اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ رکھو یعنی بخل سے کام لو تو یہ بھی بُرا ہے اور اگر تم اسے بالکل کھول دو یعنی حد سے زیادہ خرچ کرنا شروع کر دو تو یہ بھی بُرا ہے۔1 اصل طریق یہی ہے کہ تم میانہ روی سے کام لو اور صحیح رنگ میں اپنا مال خرچ کرو۔ جس میں نہ تو نخل پایا جائے اور نہ ہی اسراف کا پہلو پایا جائے ۔ اسی طرح صدقہ و خیرات جو بظاہر ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے اس میں بھی اسلام نے اس ہدایت کو ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی فوت ہونے لگے تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں اپنا سارا مال صدقہ دوں ۔ آپ نے فرمایا یہ خدا تعالیٰ کو پسند نہیں