خطبات محمود (جلد 38) — Page 152
152 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 شکست کھانی پڑی۔وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا "دلا کچھ دستگیر دے نام دا“۔میں اُس وقت جوان تھا اور نیا نیا پڑھ کر نکلا تھا۔میں نے کہا میں دستگیر کے نام پر کچھ نہیں دے سکتا۔وہ بڑا ہوشیار تھا۔کہنے لگا ہے کوئی خدا دے سواد نگیرد؟ یعنی کیا خدا کے سوا کوئی اور بھی دستگیر ہے؟ اس پر مجھے خاموش ہونا پڑا۔پس جاہل فقیروں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے عجیب و غریب باتیں بنا رکھی ہیں۔مگر جو ای دو حقیقی موجد تھے انہوں نے اپنی جانیں دے دیں، قید و بند کی مصیبتیں برداشت کیں، دشمنوں سے مار میں کھائیں مگر اپنے عقائد میں انہوں نے تبدیلی نہیں آنے دی۔مثلاً خلق قرآن کے مسئلہ پر بحث ہوئی تو امام احمد بن حنبل نے مار کھا کر اپنے ہاتھ نڑ والیے مگر بادشاہ سے دبے نہیں۔وہ یہی کہتے رہے کہ قرآن مخلوق نہیں منقول ہے۔یعنی یہ خدا تعالیٰ کا قول ہے۔کوئی ایسی چیز نہیں جو پیدا کی گئی ہو۔ایسا ہی کئی اور بزرگوں نے لوگوں سے ماریں کھائیں ، جیل خانے دیکھے مگر پروا نہیں کی۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی روشنی سے آج ساری دنیا منور ہورہی ہے۔یہ لوگ گو بعد میں آئے مگر در حقیقت یہ بھی صحابی ہی ہیں اور ان پر وہ حدیث صادق آتی ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا أَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ کہ میرے سب صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔یہ لوگ بھی گو بعد میں آئے مگر اپنے قرب اور محبت کی وجہ سے صحابہ کے مقام کو پہنچ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی بناء پر ستارے بن گئے جن سے ایک دنیا راہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ان لوگوں کی برکتوں اور رحمتوں سے جولوگوں کو فیض پہنچا ہے اس کے مقابلہ میں عوام کی کفر اور الحاد کی باتیں بالکل حقیر ہو جاتی ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ کفر اور الحاد کے باوجود جو حقیقی موجد تھے اُن کی برکت سے خدا تعالیٰ کی باتیں دنیا میں قائم ہوتی رہتی ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بڑھتی رہتی ہے۔ملحد فقیر اپنے اعمال کے متعلق آپ جواب دہ ہیں۔اور وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے اپنی جانیں دے دیں قیامت کے دن بڑے بڑے درجے حاصل کریں گئے۔الفضل 27 جون 1957 ء ) 1 : آل عمران: 80 2 صحیح مسلم مقدمة الكتاب للامام مسلم میں "أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نُنَزِلَ النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ“ کے الفاظ ہیں۔