خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 146

146 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 مجھے تحریک ہوتی ہے اور میں دعا کر دیتا ہوں۔مگر اصل طریق یہی ہے کہ تم خود بجز و انکسار سے خدا تعالیٰ کے آگے جھکو اور اس سے دعائیں کرو کہ وہ تمہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔آخر یہ کس طرح مانا جانتی سکتا ہے کہ تم نے تو خدا تعالیٰ کے مامور کو مان لیا مگر خدا تعالیٰ بات نہیں مانے گا۔اللہ تعالیٰ کسی کا احسان پنے سر پر نہیں رکھتا۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ اعراب کہتے ہیں کہ ہم نے اسلام قبول کر کے خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم احسان مت جتاؤ۔خدا نے تم پر یہ احسان کیا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق دی ہے۔4 پس جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے مامور کو قبول کرتا ہے تو چونکہ خدا تعالیٰ یہ برداشت نہیں کرتا کہ اس پر کوئی احسان رکھے اس لیے وہ فوراً اُسے اپنے انعامات سے نواز نا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح اگر تم کو تکلیف دی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ جلد ہی کی ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ تمہاری تکلیف دور ہو جائے گی۔کیونکہ اگر وہ تکلیف دور نہ ہوئی تو قیامت کے دن تم خدا تعالیٰ سے کہہ سکتے ہو کہ لوگوں نے ہمیں دنیا میں یہ یہ تکلیفیں دی تھیں۔اے خدا! تو بتا کہ ٹو نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ اللہ تعالیٰ اس کا یہی جواب دے سکتا ہے کہ تمہارے بڑے بڑے دشمن تھے جن کو میں نے ہلاک کر دیا اور تمہیں انکی شرارتوں سے محفوظ رکھا۔آخر صحابہ کو بھی بڑی بڑی تکلیفیں پہنچی تھیں۔جب مرنے کے بعد وہ خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ الہی ! تیری خاطر ہم نے اپنا وطن چھوڑا، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو چھوڑا لڑائیاں کیں ، مالی اور جانی قربانی کی تو خدا تعالیٰ انہیں کہے گا کہ تمہیں یاد ہے تم سوکھی روٹیاں کھاتے تھے اور تمہیں تن کے پورے کپڑے بھی میسر نہیں تھے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ تمہارا امام نماز پڑھاتا تو سجدہ میں جاتے وقت وہ ننگا ہو جاتا تھا مگر پھر میں نے سارے عرب کا تمہیں بادشاہ بنادیا اور مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار جو تمہیں جو تیاں مار لیتے تھے وہ تمہارے سامنے غلاموں کی طرح پھرنے لگے۔اب بتاؤ! میں نے تم پر کتنا بڑا احسان کیا تھا۔اور یقیناً انہیں ماننا پڑے گا کہ خدا نے جو اُن پر احسان کیا تھا اگلے جہان میں جو نعمتیں انہیں ملیں گی ان کو جانے دو۔اس جہان کا انعام ہی اس خدمت کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھا جو انہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کے لیے کی۔پس خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو اور یقین رکھو کہ وہ تمہاری سنے گا۔پھر دیکھ لینا کہ بڑی سے بڑی طاقت بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔