خطبات محمود (جلد 38) — Page 105
1957ء 105 خطبات محمود جلد نمبر 38 انعام ملے گا اس لیے جب وہ اپنے دین کی تائید کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہو گئے ۔ وہ شخص کہنے لگا اس نظارہ کا تصور کر کے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں نے ارادہ کر لیا کہ میں اب مدینہ جا کر ان لوگوں کے سردار کو دیکھوں گا۔ چنانچہ میں راستہ پوچھتا ہوا مدینہ آ پہنچا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی بیعت کر لی ۔9 تاریخوں میں لکھا ہے کہ اُس پر اس واقعہ کا اتنا اثر تھا کہ جب بھی کسی مجلس میں وہ اس واقعہ کو بیان کرتا تو اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ۔ چنانچہ ایک دفعہ جب وہ یہ واقعہ بیان کر رہا تھا وہ اُس نے کہا کہ تم اس وقت بھی میری قمیص اُٹھا کر دیکھ سکتے ہو کہ میرے جسم کے بال کھڑے ہیں۔ چنانچہ جب اُس کی قمیض اٹھائی گئی تو واقع میں اُس کے بال کھڑے تھے۔ تو دیکھو! اُس شخص کے رشتہ دار تو اُسے اپنے ساتھ اس غرض سے لے گئے تھے کہ اس کے اندر اسلام سے نفرت پیدا کریں۔ لیکن وہ سیدھا مدینہ پہنچا اور وہاں جا کر مسلمان ہو گیا۔ تو مومن ڈر اور خوف کی باتوں سے پریشان نہیں ہوتا بلکہ وہ اور زیادہ دلیر ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور بھی زیادہ زور سے میرے شامل حال ہوگی ۔ اس لیے اگر کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ صدرانجمن احمد یہ کے خزانہ پر حکومت نے چھاپا مارا ہے اور اس نے ضروری کا غذات اپنے قبضہ میں کر لیے ہیں جس کی وجہ سے ربوہ کے احمدی سخت گھبرائے پھرتے ہیں اور خلیفہ ڈر کے مارے جابہ چلا گیا ہے۔ حالانکہ میں تمہارے درمیان خطبہ دے رہا ہوں ۔ یہی اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور جب وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو اُن کی کسی جھوٹی خبر پر ہمیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ سچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ پس وہ سچے کا مددگار بنے گا جھوٹے کا نہیں کیونکہ وہ أَصْدَقُ الصَّادِقِينَ ہے اور ہمیشہ سچوں کا ساتھ دیتا ہے۔ پھر جب کسی فرد یا قوم کے خلاف متواتر جھوٹ بولا جائے اور اس کی طرف غلط باتیں منسوب کی جائیں تو لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت بھی اُسے پہلے سے بہت زیادہ حاصل ہونی شروع ہو جائے گی ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کہے گا کہ میری خاطر اور مجھ پر ایمان لانے کی وجہ سے ان لوگوں پر یہ مصیبت آئی ہے۔ اب میرا فرض ہے کہ میں ان کو بچاؤں ۔ آخر تم نے کوئی