خطبات محمود (جلد 38) — Page 103
1957ء 103 خطبات محمود جلد نمبر 38 نے ایک تقریر کی ۔ اس تقریر میں انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب اسلام کے سخت دشمن ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔ میں نے اُن کی تقریر سن کر سمجھا کہ مرزا صاحب ضرور سچے ہیں ورنہ ان مولوی صاحب کو آپ کے متعلق اتنا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ۔ جس شخص کے اندر اس قدر محبت رسول ہے کہ اُس کا کلام اس سے بھرا پڑا ہے اُس کے متعلق اگر کوئی مولوی کہتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن ہے تو وہ یقیناً جھوٹا ہے۔ اور جس شخص پر وہ ہتکِ رسول کا الزام لگاتا ہے وہ سچا ہے ورنہ اس تقریر کرنے والے کو جھوٹے دلائل دینے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ سچی بات کہتا کہ اگر چہ اس شخص نے درثمین میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تعریف کی ہے، خدا تعالیٰ کی بڑی تعریف کی ہے مگر ہے جھوٹا۔ اگر وہ ایسا کہتا تو پھر تو کوئی بات بھی تھی۔ لیکن اس نے سچائی کو بالکل ترک کر دیا اور کہا کہ یہ شخص خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بدگوئی کرتا ہے۔ میں نے اس کی تقریر سنی تو فوراً سمجھ لیا کہ مرزا صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں اور میں آپ کی بیعت کے لیے تیار ہو گیا۔ تو حقیقت یہ ہے کہ بسا اوقات دشمن تو یہ کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کرے لیکن بجائے جوش اُبھرنے کے وہ بات مومنوں کے حق میں مفید ہو جاتی ہے۔ رسول کریم منوں کے حق میں مفید ہوجاتی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا بھی ایک واقعہ ہے جو اس کی سچائی کی شہادت دیتا ہے۔ ایک شخص کسی ایسے قبیلے کا تھا جو اسلام کا سخت دشمن تھا وہ مسلمان ہو گیا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو مسلمان کیسے ہو گیا ہے؟ تو وہ کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ میری فلاں قوم سے رشتہ داری تھی۔ ایک دفعہ میں اپنے ان رشتہ داروں کو ملنے کے لیے گیا۔ اُس قوم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ واعظ بھیجنے کی درخواست کی تھی اور درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں ۔ آپ نے چالیس حفاظ قرآن بھجوا د یے جن میں سے ایک حضرت ابوبکر کے وہ غلام بھی تھے جو ہجرت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے ساتھ تھے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ جب میں اپنے رشتہ داروں کے پاس بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا تو یہ حفاظ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ان لوگوں میں سے جس شخص نے حفاظ بھیجنے کے لیے کہا تھا اور عرب کا بڑا رئیس تھا وہ تو دیانتدار تھا اور بعد میں مسلمان بھی ہو گیا تھا لیکن اُس کے دوسرے رشتہ دار مخالف تھے۔ جب حفاظ وہاں پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو جمع کر لیا ( جس طرح ہمارے ہاں گندم کی کٹائی