خطبات محمود (جلد 38) — Page 99
$1957 99 خطبات محمود جلد نمبر 38 موقع ملا تو انہیں قتل کر دوں گا۔لیکن جب میں واپس اپنے گاؤں گیا تو مجھے اپنی بیوی کی بدکاری کی خبر ملی ہے جس پر غصہ میں میں نے اُسے قتل کر دیا اور پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔تو اب دیکھو! وہ شخص مجھے قتل کی کرنے کے لیے آیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے خود میری حفاظت کی اور بچالیا اور عدالت نے جب اُس سے دریافت کیا تو کیوں مرزا صاحب کو قتل کرنے گیا تھا؟ تو اُس نے کہا میں نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی ایک تقریرینی تھی۔اس میں انہوں نے کہا تھا کہ مرزا صاحب حضرت عیسی علیہ السلام اور دوسرے بزرگوں کی بڑی بہتک کرتے ہیں۔اس پر مجھے جوش آ گیا اور میں انہیں قتل کرنے کے لیے چلا گیا۔پھر یہاں اسی مسجد میں ایک شخص نے چاقو سے مجھ پر دو دفعہ وار کیا اور اب تک اس کے چاقو کا ایک ٹکڑا میرے جسم میں موجود ہے۔ولایت میں ڈاکٹروں نے جو میرا ایکسرے لیا تھا اُس سے یہ بات ثابت ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس حملہ میں بھی محفوظ رکھا۔یہاں جو ڈاکٹر علاج کے لیے آئے تو انہوں نے کہا تھا کہ چاقو کا کوئی حصہ جسم میں نہیں رہا مگر جرمنی کے ایک ڈاکٹر سے میں نے اس بات کا ذکر کیا تو اُس نے کہا یہ درست نہیں۔چاقو کا سرا آب تک آپ کی کمر میں موجود ہے۔میں نے کہا کیا آپ یہ بات لکھ کر دے سکتے ہیں؟ اس نے کہا مجھے لکھ کر دینے کی کیا ضرورت ہے میں ایکسرے آپ کو دے دوں گا۔آپ اسے شائع کر دیں۔پھر حقیقت خود بخو دظاہر ہو جائے گی۔اسی طرح قادیان میں ہمارے گھر کی دیوار پر ایک شخص چڑھتا ہوا پکڑا گیا جو مجھ پر حملہ کرنے کی نیت سے آیا تھا۔دیوارٹوٹی ہوئی تھی اور وہ اُس پر چڑھ رہا تھا کہ پکڑا گیا اور بعد میں اس نے اقرار کر لیا کہ اُسے بہکا کر بھیجا گیا تھا۔اسی طرح ایک دفعہ دارالانوار کی کوٹھی میں میرے ایک بچے نے مجھے کہا کہ باہر ایک آدمی آپ کو ملنا چاہتا ہے۔جب میں اس سے ملنے کے لیے باہر گیا تو عبدالاحد صاحب پٹھان جو اس وقت قادیان میں درویش ہیں وہاں موجود تھے وہ پہرہ پر مقر نہیں تھے۔پہرہ پر خان میر صاحب ہوا کرتے تھے مگر وہ کہیں گئے ہوئے تھے۔بہر حال عبدالاحد خان صاحب وہاں موجود تھے۔جب وہ آدمی میری طرف بڑھا تو انہوں نے جھپٹ کر اُسے پکڑ لیا اور کہا یہ شخص قتل کی نیت سے آیا ہے۔چنانچہ اُس کی تلاشی لی گئی تو اُس کی شلوار میں سے پھر انکلا۔میں نے کہا خان صاحب! آپ کو کیسے پتا لگ گیا کہ اس کی شلوار میں چھرا ہے؟ وہ کہنے لگے ہم پٹھان لوگ عام طور پر اپنی شلوار میں ہی چھرارکھا کرتے ہیں