خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 44

خطبات محمود جلد نمبر 38 نہیں آئیں گے۔44 $1957 آخر یہ موٹی بات ہے کہ شام نیا پیدا نہیں ہوا۔شام پاکستان کے بننے سے سینکڑوں سال پہلے سے موجود ہے۔کم از کم اس کی حکومت پاکستان بننے سے کئی سال پہلے سے قائم شدہ ہے۔سیلون کی حکومت بھی پاکستان بننے سے پہلے سے قائم ہے۔لیکن کشمیر کا جھگڑا 1947 ء سے چلا آ رہا تھا اور یہ دونوں حکومتیں خاموش رہیں۔اب ان کے دلوں میں یہ تحریک کیسے پیدا ہوئی کہ یہ نیک کام ہے۔چلو! ہم کشمیر کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان صلح کرا دیں۔جب یو۔این۔او نے یہ قدم اٹھایا کہ کشمیر کا جھگڑا طے ہو اور پاکستان نے تحریک کی کہ وہ اپنی فوج بھیج کر کشمیر کے لوگوں سے ووٹ لیں اور ووٹ لے کر یہ فیصلہ کریں کہ کشمیر کے لوگ کس طرف جانا چاہتے ہیں۔آیا وہ پاکستان کی طرف جانا چاہتے ہیں یا ہندوستان کی طرف جانا چاہتے ہیں؟ تو معا سیلون کے وزیر اعظم کے دل میں خیال کی پیدا ہوا کہ چلو! ہم صلح کرا دیتے ہیں اور سیریا کے پریذیڈنٹ کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ ہم صلح کرا دیتے ہیں۔یہ امر صاف طور پر بتاتا ہے کہ یہ تحریک کرنے والے ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کے خیر خواہ نہیں۔ہم ان پر الزام نہیں لگاتے۔بندرا نائکے کے متعلق جہاں تک ہمارا علم ہے وہ اچھے آدمی ہیں۔اسی طرح شکری القوتلی 2 کے متعلق جہاں تک ہمارا علم ہے وہ اچھے آدمی ہیں لیکن اچھے آدمیوں کو بھی گمراہ کرنے والے گمراہ کر لیتے ہیں۔پھر عین اس وقت جبکہ یو۔این۔او قدم اُٹھا رہی ہے اور جب پاکستان نے ایسی فراخ دلی کا ثبوت دیا ہے کہ اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی ان ملکوں کے چوٹی کے لیڈروں کا صلح کرانے کا ارادہ کرنا پاکستان کی خیر خواہی پر دلالت نہیں کرتا۔پنڈت نہرو تو کشمیر پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔لیکن اس کے باوجود پاکستان نے یہ نہیں کہا کہ ہم لڑائی کے ذریعہ کشمیر واپس لیتے ہیں بلکہ اس نے یہ کہا ہے کہ یو۔این۔او اپنی فوجیں کشمیر میں بھیجے اور ان فوجوں کے ذریعہ رائے کی شماری کرائے۔اس رائے شماری کے نتیجہ میں کشمیر کے لوگ جس طرف جانا چاہیں جائیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ کشمیر ہمیں ملے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر ہندوستان کو ملے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کی اکثریت جو چاہتی ہے وہی ہو۔تو یہ ایسی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رائے ہے کہ سیاسی دنیا میں ایسی مثال بہت کم ملتی ہے۔پس ہمارے سیاستدانوں کو اس بات کے متعلق خوب غور کر لینا چاہیے اور سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی دھوکا کھا جائیں۔