خطبات محمود (جلد 38) — Page 32
$1957 32 خطبات محمود جلد نمبر 38 میاں بشیر احمد صاحب والا مکان تھا اور بیچ میں سے گلی آتی تھی اور اس کا رستہ مسجد مبارک کے نیچے سے ہوتا تھا۔پھر وہ گلی مرزا سلطان احمد صاحب والے مکان کی طرف چلی جاتی تھی اور رستہ میں اُس کے دائیں طرف ڈیوڑھی آتی تھی۔اس کے اندر داخل ہونے کے بعد سیڑھیاں آتی تھیں جن کے اوپر ہمارے گھر میں راستہ ہوتا تھا۔میں نے دیکھا کہ ان سیڑھیوں میں کچھ حرکت ہوئی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو ملنے آئے ہیں۔اس پر میں نے جا کر گنڈی کھولی۔گنڈی کھولنے پر ایک ہاتھ آگے نکلا جیسے کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے۔میں نے اُس شخص کی شکل تو نہیں دیکھی لیکن ہاتھ سے میں یہ سمجھا کہ یہ چودھری رحمت خان صاحب کا ہاتھ ہے۔چودھری رحمت خان صاحب ایک مخلص احمدی نوجوان ہیں ( اب تو شاید وہ نو جوان نہیں رہے بلکہ اُدھیڑ عمر کے ہوں گے ) گجرات میں رہتے ہیں۔ان کے بھائی چودھری غلام رسول صاحب یہاں اسکول میں ماسٹر ہیں۔1922ء میں جو میں نے درس دیا تھا اس میں وہ بڑے شوق کے ساتھ قادیان آ کر شامل ہوئے تھے۔اس کے بعد میں برابر سنتا رہا ہوں کہ انہوں نے اس درس سے پورا فائدہ اٹھایا اور اپنی سروس کے دوران میں انہیں جہاں جہاں بھی جانے کا موقع ملا وہ درس دیا کرتے تھے اور لوگوں کو قرآن کریم کے مضامین سے واقف کیا کرتے تھے۔بہر حال میں نے رویا میں سمجھا کہ یہ ہاتھ چودھری رحمت خان صاحب کا ہے۔میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا میں کتنی ہی دیر سے آپ کی تلاش کر رہا تھا آج آپ کو پکڑا ہے۔اور پھر اس خیال سے کہ انہیں علمی ذوق ہے اور قرآن کریم کے مضامین سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور درس دیتے رہے ہیں میں نے کہا اندر آ جاؤ تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کے متعلق باتیں کریں۔چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کو اندر کھینچ کر لے آیا۔اُس وقت چند اور آدمی بھی اس صحن میں ہیں لیکن اُس وقت وہ مجھے نظر نہیں آتے۔بعد میں اُن میں سے بعض آدمی مجھے نظر آئے۔بہر حال میں ان کو لے کر صحن میں آ گیا اور میں نے اُن کو اپنے پہلو میں کھڑا کر لیا اور کہا حضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو کتابیں ہیں ان میں سے چشمہ معرفت میں بہت لطیف مضامین ہیں اور وہ مجھے بہت پسند ہے۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ سامنے ڈاکٹر شاہ نواز صاحب بیٹھے ہیں۔انہوں نے اس سال جلسہ سالانہ پر تقریر بھی کی تھی۔ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ کوکوئی کتاب نہیں پہنچتی۔میں نے کہا براہین احمدیہ