خطبات محمود (جلد 38) — Page 243
$1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 243 لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمیں کوئی علیحدہ مکان دیا جائے ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔اگر باہر سے آنے والے لوگ علیحدہ مکانات نہ مانگیں اور سب جلسہ سالانہ کے انتظام کے ماتحت یں اور وہ مکانات جو عموماً الگ ٹھہر نے والوں کو دیئے جاتے ہیں وہ بھی ایک انتظام کے ماتحت عام مہمانوں کو دے دیئے جائیں تو میرے نزدیک ساری دقت دور ہوسکتی ہے۔پس میں دوستوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ جن کے پاس دو کمرے ہوں وہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک کمرہ میں سمٹ کر گزارہ کر لیں اور ایک کمرہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لیے دے دیں۔اور جن کے پاس پانچ چھ کمرے ہوں وہ دو تین کمرے مہمانوں کو دے دیں اور باقی کمروں میں خود سمٹ جائیں۔لیکن ان مکانات کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کی اپنی عمارتیں بھی ہیں۔مثلاً لجنہ اماءاللہ کا ہال ہے، اسی طرح کالج، اسکول اور جامعہ احمدیہ کی عمارات ہیں۔ان سے بھی جلسہ سالانہ کے ایام میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔لجنہ اماءاللہ کے ہال اور دفتر میں تو عورتیں ٹھہرتی ہیں لیکن کالج ، ہائی اسکول اور جامعہ احمدیہ کی عمارتوں میں ہمیشہ مرد ٹھہرا کرتے ہیں۔پھر اب تو انصار اللہ کا دفتر اور ہال بھی بن گیا ہے۔ان ساری عمارتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو مہمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے قیام کا بخوبی انتظام ہوسکتا ہے۔پچھلے سال ہمارے جلسہ سالانہ پر ساٹھ ہزار آدمی آئے تھے۔اگر اس جلسہ پر بھی اسی قدر لوگ آئیں تو بڑی آسانی سے ان کے قیام کا انتظام ہو سکتا ہے۔بہر حال آپ سب لوگوں کا فرض ہے کہ مل کر کوشش کریں اور خود تکلیف اُٹھا کر بھی مہمانوں کے لیے جگہ نکالیں کیونکہ یہ گاڑی کسی انسان نے نہیں چلائی بلکہ خدا تعالیٰ نے چلائی ہے اور اس کے پہلے گاڑی بان اسی کے حکم کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقرر ہوئے ہیں۔اس گاڑی کو چلانا اور منزل مقصود تک پہنچانا ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے۔اگر ہم اس فرض کو پورا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو ہم احمدیت کو بدنام کرتے ہیں۔ہمیں اس غرض کے لیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔درحقیقت اصل قربانی تو باہر والے کرتے ہیں۔وہ سردی کے موسم میں اپنا گھر بھی چھوڑتے ہیں، راستہ کے اخراجات بھی ادا کرتے ہیں، چندے بھی دیتے ہیں اور پھر یہاں آکر زمین پر سوتے ہیں۔اگر وہ لوگ اتنی قربانی کرتے ہیں تو ربوہ والوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہیں تو صرف