خطبات محمود (جلد 38) — Page 234
خطبات محمود جلد نمبر 38 234 $1957 طرح مدد کرتا ہے تو وہ جماعت کی کیوں مدد نہیں کرے گا۔جماعت تو اس کی مدد کی بہت زیادہ مستحق ہے۔لاہور میں بھی 1941ء میں میں نے کچھ زمین سمن آباد میں خریدی تھی اور میں نے شروع سے یہ نیت کی ہوئی تھی کہ اس زمین پر کوٹھی بنا کر میں صدر انجمن احمدیہ کو دے دوں گا۔اس کے بعد میں نے گلبرگ میں بھی زمین خرید لی۔اب میرا ارادہ ہے کہ سمن آباد والی زمین بیچ کر گلبرگ والی زمین پر کوٹھی تعمیر کروں۔اور گلبرگ والی کوٹھی صد را انجمن احمدیہ کو دے دوں۔اگر میں نے پہلے سے یہ نیت نہ کی ہوتی کہ میں یہ کوٹھی صدر انجمن احمدیہ کو دے دوں گا تو میں لاہور کی جماعت کو دے دیتا۔لیکن اب میں ایسا نہیں کرسکتا۔کیونکہ میں شروع سے ہی یہ نیت کر چکا ہوں کہ میں یہ کوٹھی صد را مجمن احمدیہ کو دے دوں گا۔یہاں جب کبھی میں آتا ہوں ہمشیرہ کے الاٹ شدہ مکان میں ٹھہر جاتا ہوں۔قیام چونکہ مختصر ہوتا ہے اس لیے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔کراچی میں زیادہ دیر قیام کرنا پڑتا ہے اس لیے وہاں ذاتی مکان کی ضرورت تھی تا کہ صدر انجمن احمدیہ کا مکان خالی ہو اور وہ کرایہ پر چڑھ سکے۔صدرانجمن احمدیہ کا یہ مکان چھ فلیٹ پر مشتمل ہے اور اگر ایک فلیٹ پانچ سو روپیہ ماہوار پر بھی چڑھے تو تین ہزار روپیہ ماہوار اور چھتیس ہزار روپیہ سالانہ مل جاتا ہے۔بہر حال میں نے کراچی والی جائیداد کو اپنے پاس اس لیے رکھا کہ صدر انجمن احمدیہ کی جائیداد آزاد ہو جائے۔یہاں صدر انجمن احمدیہ کی اس وقت تک کوئی جائیداد نہیں۔یہاں میں چند دن کے لیے آتا ہوں اور ہمشیرہ کے پاس ٹھہر جاتا ہوں۔اور اگر بالفرض یہاں کوئی مکان نہ بھی ملے تو ہم کسی اچھے ہوٹل میں ٹھہر سکتے ہیں یا جو کوٹھی میں صدرا انجمن احمدیہ کو دینے کا ارادہ رکھتا ہوں وہ ہم کرایہ پر لے سکتے ہیں۔غرض تم اس مسجد کے بنانے کی کوشش کرو تا کہ جنت میں تمہارا گھر بنے۔تم نے دیکھا کہ پچھلے دنوں لاہور میں کس قدر گھر جلے ہیں۔ہمارے ایک اکٹر نور احمد صاحب تھے جو بڑی مدت سے لاہور میں رہتے تھے اور انہوں نے یہاں اپنا مکان بھی بنایا ہوا تھا لیکن فسادات میں ان کا گھر جلا دیا گیا۔وہ بیمار تھے۔اب سنا ہے کہ فوت ہو گئے ہیں۔تو دنیا کی سب چیزیں فانی ہیں۔وہی چیز انسان کے کام آتی ہے جو نیک کاموں پر خرچ کی جاتی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک غریب عورت تھی وہ محنت مزدوری کر کے