خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 5

$1957 5 خطبات محمود جلد نمبر 38 میرے شبہات دور کرنے کا موجب ہوا ہے۔پھر ایک اور پروفیسر کو دیباچہ انگریزی ترجمۃ القرآن دیا تاوی گیا تو وہ اسے گھر لے گیا اور اسے پڑھنے کے بعد کہنے لگا میں آج سے پھر مسلمان ہوا ہوں۔میں اگر چہ مسلمان تھا مگر مجھے اسلام پر پورا یقین نہیں تھا۔اب میں اس کتاب کو پڑھ کر دوبارہ مسلمان ہوا ہوں اور کیا تعجب ہے کہ لاکھوں نہیں کروڑوں آدمی ایسے ہوں جو تر جمہ پڑھ کر دوبارہ مسلمان ہوں۔میری ایک خواب ہے جو الفضل میں چُھپ چکی ہے۔اس میں میں نے دیکھا کہ میں ترکی سے روس کی طرف گیا ہوں۔پس کوئی تعجب نہیں کہ اگر ہم روسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کریں تو ترکی سے ایسا رستہ مل جائے جس کے ذریعہ وہ روس میں پہنچ جائے۔پھر میں نے اس خواب میں دیکھا کہ جہاں میں گیا ہوں وہاں کچھ جھونپڑیاں ہیں جن کی پھوس کی دیوار میں اور پھوس کی چھتیں ہیں اور ان میں غریب لوگ رہتے ہیں۔ممکن ہے ہمارا ترجمۃ القرآن پہلے روس کے غریب خاندانوں میں پھیلے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔پھر اس خواب میں اُن لوگوں سے میں نے حالات دریافت کرنے شروع کیے اور اس طرح مذہب کی باتیں شروع ہو گئیں تو ان میں سے ایک شخص نے میرے سوالات کا جواب دینا شروع کیا اور مجھے بتایا کہ ہم چند لوگ احمدی ہیں۔2 پس کوئی تعجب نہیں کہ ہمارے ذریعہ روس میں قرآن کریم پھیلے اور ہم ان لوگوں کے خیالات کی اصلاح کریں۔عیسائیت انہیں خدا تعالیٰ سے وابستہ نہیں رکھ سکی۔لیکن اب اسلام یہ کام کرے گا اور انہیں خدا تعالیٰ کی طرف لے آئے گا۔آجکل روسی بائیس کروڑ ہیں۔اگر وہ ہمیں مل گئے تو چین کے پچاس کروڑ باشندے بھی کہیں نہیں جاسکتے۔اور اگر یہ دونوں ملک اسلام میں آ جائیں تو ہندوستان کا پینتالیس کروڑ آدمی بھی کہیں نہیں جاتا۔یہ سارے مل کر ایک ارب سترہ کروڑ بن جاتے ہیں۔پھر آٹھ کروڑ پاکستانی ملالیں اور اٹھارہ کروڑ امریکن آ جائیں تو یہ ایک ارب تینتالیس کروڑ بن جاتے ہیں۔پھر یورپ کے تمہیں کروڑ باشندے آجائیں تو یہ ایک ارب تہتر کروڑ بن جاتے ہیں۔پھر چالیس کروڑ باشندے افریقہ کے ملا لیے جائیں تو یہ دوارب تیرہ کروڑ بن جاتے ہیں اور پھر اس میں انڈونیشیا اور بعض دوسرے علاقوں کے آدمی ملا لیے جائیں تو یہ دو ارب پچاس کروڑ بن جاتے ہیں اور یہ تقریباً دنیا کی کی کل آبادی کے برابر ہو جاتے ہیں۔اور وہی بات ہو جاتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے کہ تین سو سال کے اندر میری جماعت اس قدر بڑھ جائے گی