خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 110

خطبات محمود جلد نمبر 38 110 $1957 کیپ ٹاؤن کے پرانے احمدی تھے۔ان کے والد احمدی نہیں تھے۔مگر یہ دونوں انگلستان میں احمدی ہوئے تھے۔اب ایک انگریز عورت احمدی ہوئی ہے۔اسے گویا تیسرا احمدی کہنا چاہیے لیکن چونکہ اب وہاں کوئی اور احمدی نہیں ہے اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پہلی احمدی عورت ہے۔یوسف سلیمان صاحب 1946ء میں قادیان میں میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ میں کلکتہ سے ہو کر ساؤتھ افریقہ جاؤں گا۔وہاں ہماری جائیداد ہمارے غیر احمدی رشتہ داروں کے قبضہ میں ہے اُس کی بھی نگرانی کروں گا اور تبلیغ بھی کروں گا۔مگر وہ جاتے ہی فوت ہو گئے اور تبلیغ نہ کر سکے۔یہ ساؤتھ افریقہ کے اُس خاندان سے تھے جس نے سب سے پہلے وہاں آزادی کی تحریک چلائی تھی۔عمر سلیمان نے مجھے بتایا تھا کہ جب گاندھی جی ساؤتھ افریقہ گئے اور پہلی دفعہ انہیں سیاسی کام کرنا پڑا تو وہ میرے باپ کے پاس ہی ٹھہرے تھے اور انہی سے مل کر انہوں نے ایک انجمن بنائی تھی۔اس کے بعد وہ ہندوستان آگئے اور یہاں آ کر وہ ایک بڑے لیڈر بن گئے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کی بتایا ہے وہاں اب ایک انگریز عورت احمدی ہوئی ہے اور اس نے لکھا ہے کہ میں نے تبلیغ شروع کر دی ہے۔خدا کرے کہ اس کے ذریعہ وہاں ایک بڑی جماعت پیدا ہو جائے۔وہاں ہندوستانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اگر وہ عورت ہندوستانیوں میں تبلیغ کرے تو اسے زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کی حقارت پائی جاتی ہے اور انگریزوں کے دلوں میں ہندوستانیوں کی حقارت پائی جاتی ہے مگر انگریزوں کا ہندوستانیوں پر ابھی تک رُعب قائم ہے۔اگر کوئی انگریز ہندوستانیوں میں تبلیغ کرے تو وہ فوراً ماننے کو تیار ہو جائیں گے۔پس اگر وہ عورت ہندوستانیوں میں تبلیغ کرے تو ممکن ہے وہ کامیاب ہو جائے۔مغربی افریقہ سے ایک اور خوشکن اطلاع یہ آئی ہے کہ وہاں کے ایک احمدی دوست جو بڑے رئیس ہیں اسمبلی کی ممبری کے لیے کھڑا ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پہلے بھی وہ اسمبلی کے ممبر تھے مگر آب وہ اسمبلی ٹوٹ گئی ہے۔نئے انتخاب ہونے والے ہیں۔اس دفعہ ان کی پارٹی کو ان پر اتنا اعتبار ہے کہ وہ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ شاید وہ وزیر ہو جائیں۔دوست ان کے لیے دعا کریں کہ وہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہو جائیں۔یہاں پاکستان میں تو ہمیں خالی ممبریاں ملنی بھی مشکل ہیں مگر ان علاقوں میں ہمارے دوست اگر چہ تعداد میں تھوڑے ہیں مگر وہ وزارتوں پر بھی ہاتھ مارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔