خطبات محمود (جلد 38) — Page 102
$1957 102 خطبات محمود جلد نمبر 38 وہاں مجھے ملا اور اس نے مجھے بتایا کہ میری ایک بڑی مشین ہے۔میں چاہتا ہوں کہ نوکری چھوڑ کر اپنا نی کاروبار کروں۔آپ اس بارہ میں مجھے مشورہ دیں۔میں نے کہا کہ اگر تو تمہاری مشین ایسی ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ اس سے ملازمت سے زیادہ آمدن ہو سکتی ہے تو کچھ عرصہ تک رُخصت لے کر کام شروع کر دو۔بعد میں استعفی دے دینا۔بہر حال بیعت کے وقت میں نے اُس سے دریافت کیا کہ تمہیں بیعت کرنے کی تحریک کیسے ہوئی ؟ تمہارا شہر تو سخت مخالف ہے۔وہ کہنے لگا مجھے بیعت کی تحریک ایک احراری لیکچرار لال حسین صاحب اختر کی ایک تقریر کی وجہ سے ہوئی ہے۔میں نے کہا وہ تو سلسلہ کا سخت مخالفت ہے اُس کی تقریر کی وجہ سے آپ کو بیعت کی تحریک کیسے ہوئی ؟ وہ کہنے لگا میں تو اس کی تقریر کی وجہ سے احمدی ہوا ہوں۔میں نے اس کی ایک تقریر سنی تھی۔اس تقریر میں اُس نے احمدیت کو سخت گالیاں دیں۔جب وہ گالیاں دے چکا تو میں نے سوچا کہ اب ان لوگوں کے پاس صرف گالیاں ہی رہ گئی لی ہیں۔اگر کوئی دلیل ہوتی تو وہ دلیل بھی دیتا۔چونکہ اس نے تقریر میں کوئی دلیل نہیں دی اس لیے وہ سچا تھی نہیں ہوسکتا۔اس پر میں نے فیصلہ کر لیا کہ جب بھی مجھے پنجاب جانے کا موقع ملا میں آپ کی بیعت کر لوں گا۔تو دیکھو اس مخالف لیکچرار نے تو چاہا تھا کہ ہمارے خلاف لوگوں میں نفرت پھیلائے لیکن ہوا یہ کہ اُس کی تقریر کی وجہ سے ایک فوجی افسر احمدی ہو گیا۔اور اس نے سمجھ لیا کہ اس شخص کا گالیاں دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ احمدیت کے خلاف اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک مولوی صاحب آئے۔وہ شاعر بھی تھے اور بڑے مشہور ادیب بھی تھے۔نواب صاحب رام پور نے انہیں اردو محاورات کی لغت لکھنے پر مقرر کیا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب رام پور کے پاس مشہور شاعر مینائی کے مسودات پڑے ہوئے تھے۔انہوں نے اردو کی ایک بڑی بھاری لغت لکھی تھی۔مگر ابھی اسے مکمل نہیں کیا تھا کہ وہ وفات پاگئے۔نواب صاحب رام پور نے وہ مسودات مجھے دیئے ہیں اور کہا ہے کہ تم انہیں مکمل کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا کہ رام پور میں تو ہماری بڑی مخالفت ہے اور آپ وہاں کے رہنے والے ہیں۔آپ کو بیعت کرنے کی طرف توجہ کیسے ہوئی ؟ وہ کہنے لگے مجھے کسی نے در نمین دی تھی۔میں چونکہ خود شاعر ہوں میں نے آپ کا کلام پڑھا جس کی وجہ سے میں بہت متاثر ہوا کیونکہ اس میں محبت رسول بھری پڑی تھی۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب وہاں آئے اور انہوں