خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 101

$1957 101 خطبات محمود جلد نمبر 38 کے سر پر ڈال دیتا ہے اور وہ محفوظ ہو جاتا ہے۔پس مومنوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے۔خصوصاً رمضان کے مہینہ میں کیونکہ یہ دن یسے ہیں جن سے انسان زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ میں اس مہینہ میں اپنے بندوں کے قریب ہو جاتا ہوں اور وہ جو دعا مجھ سے مانگیں میں اُسے سنتا ہوں۔پس جو دن دعاؤں کے لیے مخصوص ہیں ان میں تو خصوصیت سے کسی قسم کی گھبراہٹ بھی مومن کے قریب نہیں آ سکتی۔ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان مصلی پر گر جائے اور اُس وقت تک سجدہ سے سر نہ اُٹھائے جب تک اُسے یقین نہ ہو جائے کہ خدا تعالیٰ میری اس دعا کو ضائع نہیں کرے گا۔اور جب کوئی شخص خدا تعالیٰ پر اس قسم کا تو کل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کی دعا کو قبول فرمالیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِى بئی - 7 یعنی جب میرا کوئی بندہ مجھ پر پورا اعتبار کر کے میرے آگے گرتا ہے تو میں وہی کچھ کرتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں حاکم ہوں مگر پھر بھی جب میرا بندہ مجھے پر اس قسم کا تو کل کرتا ہے تو میں اُس کی بات مانے کو تیار ہو جاتا ہوں کیونکہ اُس نے اپنا سب کچھ میرے حوالہ کر دیا ہوتا ہے۔پس رمضان کے دنوں میں دوستوں کو خاص طور پر دعائیں کرنی چاہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مخالفوں کی ناکامی ایک یقینی بات ہے لیکن کم سے کم اتنا نتیجہ تو ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں۔اُن کے دلوں میں جماعت کے متعلق نفرت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔پس ہمیں خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہیں کہ دشمن تو لوگوں میں ہمارے متعلق نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اے خدا! تو نفرت کی بجائے لوگوں کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کر دے۔قریباً ایک ماہ کی بات ہے میں نے مسجد میں آ کر نماز پڑھائی۔تو ایک آدمی آگے آیا اور اس نے کہا میں نے بیعت کرنی ہے۔میں نے دریافت کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ اس نے بتایا کہ میں ڈھاکہ سے آیا ہوں۔میں نے کہا آپ تو پنجابی معلوم ہوتے ہیں۔اُس نے کہا یہ درست ہے۔میں رہنے والا تو قصور کا ہوں اور تاجر قوم میں سے ہوں لیکن اپنی ملازمت کے سلسلہ میں ڈھا کہ میں مقیم ہوں۔میں ہوائی فوج میں ملازم ہوں اور فلائیٹ افسر ہوں۔وہاں سے میں بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں۔بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی تجارت بھی اچھی خاصی ہے۔کیونکہ اب کے میں کراچی گیا تو وہ