خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 73

$1956 73 خطبات محمود جلد نمبر 37 کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے۔وہ کہنے لگی بہائیت کہتی ہے جھوٹ نہ بولو۔میں نے کہا دنیا ہا کون سا مذہب ہے جو کہتا ہے جھوٹ بولو۔ہر مذہب یہی کہتا ہے کہ سچ بولو اور یہی قرآن کریم نے کہا ہے۔پھر اُس نے کہا بہاء اللہ نے کہا ہے کہ عورتوں کے لیے تعلیم ضروری ہے۔میں نے کہا یہ تعلیم بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کہ عورتیں بھی جنت میں جائیں گی 3 اور جنت میں وہ اُسی وقت جا سکتی ہیں جب وہ نمازیں پڑھیں گی، روزے رکھیں گی، زکوۃ دیں گی، حج کریں گی اور یہ کام بغیر تعلیم کے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر انہیں یہ پتا ہی نہیں ہو گا کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے، عبادات کیا ہیں، اخلاق فاضلہ کیا ہیں تو وہ جنت میں کیسے جائیں گی اور یہ تمام باتیں تعلیم کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس پر اُس عورت نے کہا دیکھیے بہائیت کہتی ہے کہ ایک سے زیادہ بیویاں نہیں کرنی چاہیں لیکن قرآن کریم تعد دازدواج کی تعلیم دیتا ہے جو بہت بڑا ظلم ہے۔میں نے کہا یہ بحث کہ ایک بیوی پر کفایت کرنا بہتر ہے یا ضرورت کے وقت ایک سے زیادہ بیویاں کرنا مناسب ہے بہت لمبی ہے۔میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ظلم ہے تو خود بہاء اللہ نے ایک سے زائد بیویاں کیوں رکھیں؟ اُس عورت نے کہا قرآن کریم تو چار بیویوں کی اجازت دیتا ہے۔میں نے کہا اصل اعتراض تو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر ہے تین یا چار بیویاں کرنے پر نہیں۔اگر اصل اعتراض ایک سے زائد بیویاں کرنے پر ہے تو جس طرح یہ اعتراض چار بیویوں پر وارد ہوتا ہے اُسی طرح دو اور تین پر بھی وارد ہوتا ہے۔اس پر اُس انگریز عورت نے ایرانی عورت سے دریافت کیا کہ بہاء اللہ کی کتب میں اس کے متعلق کیا لکھا ہے؟ پہلے تو ہے س نے حقیقت بیان کرنے سے گریز کیا لیکن بعد میں اصرار کرنے پر بتایا کہ کہ بہاء اللہ کی ایک سے زائد بیویاں تھیں۔مگر ساتھ ہی کہنے لگی کہ بہاء اللہ نے کہا تھا کہ میری تعلیم کی جو تشریح عباس کرے گا وہی درست ہوگی اور عباس نے یہی کہا ہے کہ مرد ایک سے زائد بیویاں نہ کرے۔میں نے کہا جب بہاء اللہ نے عملی طور پر تعد دازدواج کو تسلیم کیا ہے اور اُس نے خود ایک سے زیادہ بیویاں کی ہیں تو اب کون شخص یہ بات مان سکتا ہے کہ بہائیت کی تعلیم یہ ہے کہ مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہ کرے۔آخر وہ کہنے لگی اصل بات یہ ہے