خطبات محمود (جلد 37) — Page 65
$1956 65 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو انہیں جبراً آگے لایا جاتا ہے تو دین کی خدمت کے لیے زندگی وقف کرانے کے لیے جماعت کے نوجوانوں پر روحانی دباؤ سے کام کیوں نہیں لیا جاسکتا۔انگلستان میں فوجی سپاہیوں کو کھانے کے علاوہ جو رقم دی جاتی ہے اُس سے زیادہ رقم وہ اپنے چوڑھوں کو دے دیتے ہیں۔اور اس قدر رقم بھی تھوڑے عرصہ سے ملنی شروع ہوئی ہے ورنہ ایک زمانہ ایسا تھا جب وہاں ایک سپاہی کو اُس کے کھانے کے اخراجات کے علاوہ صرف دو شلنگ یعنی ڈیڑھ روپیہ ماہوار دیا جاتا تھا۔گویا ایک سپاہی کی تنخواہ چھ روپے ماہوار تھی۔اب اس تنخواہ کو بڑھا دیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ تنخواہ ایسی زیادہ نہیں۔پس اگر دنیوی حکومت فوجی بھرتی کے لیے جبر کا استعمال کرتی ہے اور کوئی شخص اس پر اعتراض نہیں کرتا تو دینی سلسلہ، علماء تیار کرنے کے لیے اپنے نوجوانوں کو روحانی دباؤ ڈال کر کیوں آگے نہیں لا سکتا۔اور حکومتوں کو جانے دو پاکستان کی حکومت کو ہی لے لو۔اگر اسے ملک کی حفاظت کے لیے کافی نوجوان فوج میں بھرتی کرنے کے لیے نہ ملیں تو لازماً وہ اس بات پر مجبور ہو گی کہ اس کے لیے جبری بھرتی کرے اور کسی شخص کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہو گا۔اور پھر ملک جو تنخواہ بھی ان نوجوانوں کو دے گا وہ انہیں منظور کرنی پڑے گی۔اس وقت بھی جبکہ ہماری حکومت فوجی بھرتی کے لیے جبر کا استعمال نہیں کرتی ایک سپاہی کی تنخواہ علاوہ راشن کے بتیں تینتیس روپے سے زیادہ نہیں۔لیکن ایک معمولی چپڑاسی کی تنخواہ اس سے کہیں زیادہ۔حالانکہ سپاہی ملک کے لیے اپنی جان پیش کرتا ہے اور اس پر بہت کچھ پابندیاں عائد ہوتی ہیں لیکن چپڑاسی کو نہ اپنی جان پیش کرنا پڑتی ہے اور نہ اُس پر اتنی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔گویا ای تنخواہ کے لحاظ سے فوج کا سپاہی معمولی چپڑاسی سے کم ہے لیکن محض اس لیے کہ اُس کے وجود کی ملک کو ضرورت ہوتی ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔انگلستان میں ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ بعض لوگوں نے جبری بھرتی پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا کرنا آزادی ضمیر کے خلاف ہے لیکن جب جرمنی کے مقابلہ میں انگلستان کو لڑنا پڑا تو حکومت نے ملک میں جبری بھرتی کا قانون پاس کر دیا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے امریکہ میں بھی جبری بھرتی کا قانون نافذ ہے۔حال ہی میں مجھے ایک امریکن احمدی نوجوان