خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 64

$1956 64 خطبات محمود جلد نمبر 37 دوسرے اکثر ممالک میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے۔انگلستان میں پہلے جبری بھرتی کا قانون نہیں تھا لیکن اب اس میں بھی جبری بھرتی درست تسلیم کی جاتی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں ملک کے جاؤ کے لیے فوج کا ہونا ضروری ہے۔اگر ملک کے نوجوان اس وجہ سے کہ فوج میں تنخواہیں کم ہیں فوج کی ملازمت کے لیے آگے نہیں آتے تو ملک کی حفاظت کیسے ہو گی اور حکومت کے پاس اس کے بغیر اور کیا چارہ ہے کہ وہ انہیں جبری طور پر فوج میں بھرتی کرے۔اور جو شخص فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرے اسے جیل خانہ میں ڈال دے۔ہماری جماعت کو بھی فوجی کی ضرورت ہے اور وہ فوج علماء اور مبلغین ہیں۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان دینی علوم کے حصول کے لیے اور پھر اس کے بعد دینی خدمت کے لیے آگے نہیں آتے تو مجبوراً ہمیں بھی انہیں جبر سے اس طرف لانا پڑے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے پاس دنیوی جیل خانے نہیں اور نہ ہمارے پاس حکومت ہے کہ ہم انہیں اس قسم کی کوئی سزا دے سکیں۔لیکن محبت اور تعلق کا جیل خانہ تو ہمارے پاس موجود ہے۔اگر کوئی شخص وقف میں نہیں آئے گا تو ہم کہیں گے اچھا آئندہ ہم تم سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔آخر جو شخص مسلمان ہوتا ہے وہ کسی جبر کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوتا وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوتا ہے، وہ اپنی مرضی سے احمدی ہوتا ہے۔اور جو شخص اپنی مرضی سے احمدیت کو قبول کرتا اور جماعت کا ایک فرد بن جاتا ہے اُس کی نظر میں جماعت کے تعلق کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے۔اس لیے ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ اگر تمہارے خیال میں جماعتی تعلق کی کوئی قیمت ہے تو تم اس کی خدمت کے لیے اپنی زندگی پیش کرو۔اور اگر تم اس کی خدمت کے لیے آگے نہیں آؤ گے تو ہم تم سے اپنی محبت کے تعلق کو توڑ دیں گے۔اگر دنیوی حکومتوں نے اپنی ضروریات کے وقت جبری بھرتی کا قانون جائز رکھا ہے تو ہم اپنے نوجوانوں کو وقف کے لیے کیوں مجبور نہیں کر سکتے ؟ آخر تمہاری اُمنگیں کی در تمہارے جذبات امریکہ کے نوجوانوں کی اُمنگوں اور جذبات سے زیادہ نہیں، تمہاری اُمنگیں اور جذبات انگلستان کے نوجوانوں کی اُمنگوں اور جذبات سے زیادہ نہیں ، تمہاری اُمنگیں اور جذبات یورپ کے نوجوانوں کی اُمنگوں اور جذبات سے زیادہ نہیں۔اگر ان ممالک کی کے نوجوان کم گزارہ پر ملک کی خدمت کے لیے آگے آجاتے ہیں اور اگر وہ آگے نہیں آتے کی