خطبات محمود (جلد 37) — Page 49
$1956 49 خطبات محمود جلد نمبر 37 غالباً سو روپیہ ماہوار ملتا تھا۔حالانکہ وہ ایم۔اے تھے اور پھر وکیل بھی تھے اور ایک کالج میں پروفیسر کے طور پر کام بھی کر چکے تھے۔لیکن انہوں نے کبھی تنخواہ کم ہونے کی شکایت نہیں کی تھی۔پھر کیا وجہ ہے کہ اب نوجوانوں میں تنخواہ کا زیادہ احساس پیدا ہو گیا ہے۔پھر ایک طالبعلم نے یہ بات بھی کہی کہ چونکہ بڑے آدمیوں کے بچے زندگی وقف کر کے نہیں آتے اس لیے جماعت کے نوجوانوں کو وقف کی طرف کم توجہ ہے۔میں نے کہا تمہارے نزدیک بڑے ہونے کا کیا معیار ہے؟ میں اس وقت خلیفہ ہوں اور جماعت میں سب سے بڑا آدمی ہوں۔میرے بائیس بچے اور داماد واقف زندگی ہیں۔اگر انہیں دیکھ کر بھی نو جوانوں کو وقف کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوئی تو یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ چودھری اسد اللہ خاں یا عبداللہ خاں کا لڑکا اگر زندگی وقف کرے تو نوجوانوں کو وقف کی طرف توجہ ہو جائے گی۔غرض بات چکر کھا کر پھر وہیں آجاتی ہے کہ نوجوانوں کو وقف کی طرف کیوں توجہ نہیں جبکہ اس وقت دنیا تبلیغ کی محتاج ہے۔اور یہی وہ سوال تھا جس کے متعلق میں نے نو جوانوں کو توجہ دلائی تھی کہ انہیں اس پر غور کرنا چاہیے۔مگر انہوں نے اس پر صحیح طور غور نہیں کیا۔میں اس موقع پر ہائی سکول کے طلباء سے بھی کہتا ہوں کہ انہیں ایسے خیالات سے متکثر نہیں ہونا چاہیے۔اسکول کے طلباء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا اخلاص پایا جاتا ہے اور ان کی اخلاص بھری چٹھیاں میرے پاس آتی رہتی ہیں۔لیکن پھر بھی میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان باتوں کی نقل نہ کریں جن کا نمونہ بعض شاہدین نے دکھایا ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ جامعة المبشرین کے بعض اساتذہ نے بھی مجھے لکھا تھا کہ شاہدین کی تنخواہیں بڑھا دی جائیں پھر دیکھیں کہ جماعت میں وقف کی کتنی رغبت پیدا ہو جاتی ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔دین کی خدمت کرنے والوں نے اپنے اپنے زمانہ میں بڑا کام کیا ہے لیکن سلسلہ کی طرف سے انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملا کرتی تھی۔تم حضرت خلیفہ اسیح الاول کی زندگی کو دیکھ لو، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو دیکھ لو۔اِن لوگوں کو کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا مگر پھر بھی انہوں نے دین کی عظیم الشان خدمت کی۔مولوی عبدالکریم صاحب اتنے پایہ کے عالم تھے کہ سارے ضلع