خطبات محمود (جلد 37) — Page 605
$1956 605 خطبات محمود جلد نمبر 37 حکم کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کی۔پھر ہزاروں مومن مرد اور ہزاروں مومن عورتیں سینکڑوں میل سے چل کر یہاں اس لیے آئے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کریں اور ہزاروں ہزار آدمی دن اور رات دعائیں کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور دینِ اسلام کی عزت قائم ہو جائے۔اس مبارک دن میں جمعہ کا آنا اور اس ساعت کا ملنا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن اس میں جو کچھ مانگے اللہ تعالیٰ اُسے دے دیتا ہے بڑی بھاری خوش قسمتی ہے۔اس لیے ابھی سے دعاؤں میں لگ جاؤ تا کہ آخری وقت تک کوئی موقع تمہارے ہاتھ سے جاتا نہ رہے اور تمہیں وہ ساعت مل جائے۔لیکن دعا وہ کرو جو جامع اور مانع ہو۔چھوٹی چھوٹی دعاؤں کے لیے دوسرے وقت بہت آتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے حج کیا تو میں نے ایک حدیث پڑھی ہوئی تھی کہ جب پہلے پہل خانہ کعبہ نظر آئے تو اُس وقت جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے 2 تو فرمانے لگے میرے دل میں کئی دعاؤں کی خواہشیں ہوئیں۔پھر میرے دل میں فوراً خیال پیدا ہوا کہ اگر میں نے یہ دعائیں مانگیں اور قبول ہو گئیں اور پھر کوئی اور ضرورت پیش آئی تو پھر کیا ہو گا۔پھر تو نہ حج ہو گا اور نہ یہ خانہ کعبہ نظر آئے گا نہ میں دعائیں کر سکوں گا۔کہنے لگے تب میں نے سوچ کر یہ نکالا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں کہ یا اللہ! میں جو دعا کیا کروں وہ قبول ہوا کرے تا کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے۔میں نے حضرت خلیفہ اول سے یہ بات سنی ہوئی تھی۔جب میں نے حج کیا تو مجھے بھی وہ بات یاد آ گئی۔جونہی خانہ کعبہ نظر آیا ہمارے نانا جان نے ہاتھ اُٹھائے۔کہنے لگے دعا کر لو۔وہ کچھ اور دعائیں مانگنے لگ گئے۔میں نے کہا مجھے تو ایک ہی دعا یاد ہے۔میں نے تو یہی دعا کی کہ یا اللہ ! اس خانہ کعبہ کو دیکھنے کا مجھے روز روز کہاں موقع ملے گا۔آج عمر بھر میں ت کے ساتھ موقع ملا ہے تو میری تو یہی دعا ہے کہ تیرا اپنے رسول سے وعدہ ہے کہ اس کو پہلی دفعہ حج کے موقع پر جو دیکھ کے دعا کرے گا وہ قبول ہو گی۔میری دعا تجھ سے یہی ہے کہ ساری عمر میری دعائیں قبول ہوتی رہیں۔چنانچہ اس کے فضل اور احسان سے میں برابر یہ نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ میری ہر دعا اس طرح قبول ہوتی ہے کہ شاید کسی اعلیٰ درجہ کے شکاری کا