خطبات محمود (جلد 37) — Page 602
$1956 602 خطبات محمود جلد نمبر 37۔که مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی کیا عزت ہوتی ہے اور مرزا صاحب کو کیا ذلت پہنچتی ہے جب مولوی صاحب اُن لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے خیال کیا کہ عدالت میں تو جو ذلت ہوئی سو ہوئی یہاں ان لوگوں سے ہی عزت کروا لوں۔سامنے ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور بدقسمتی سے وہ ایک احمدی دوست کی تھی۔مولوی صاحب اُس پر بیٹھ گئے۔پاس ہی سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔اُس احمدی دوست نے مولوی صاحب کو اپنی چادر پر سے بھی اُٹھا دیا۔کہنے لگا میری چادر چھوڑئیے اور اسے ناپاک نہ کیجیے۔آپ عیسائیوں کی طرف سے گواہی دینے آئے ہیں۔اب دیکھ لو جس کو خدا تعالیٰ چھوڑ دے دنیا میں اس کی کوئی بھی مدد نہیں کر سکتا۔مولوی محمد حسین صاحب اپنے آپ کو اہلِ حدیث کا ایڈووکیٹ کہا کرتے تھے لیکن اہلِ حدیث کا ایڈووکیٹ اور لیڈر ہونے کے باوجود وہ ذلیل ہوئے اور حضرت مرزا صاحب جن کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا وہ معزز ہو گئے۔ان کو خدا تعالیٰ نے وہ عزت دی کہ آج ساری دنیا میں آپ کا تو نام لیا جاتا ہے۔کیا یورپ، کیا امریکہ اور کیا ایشیا سب میں آپ کے نام لیوا پائے جاتے ہیں۔انڈونیشیا، فلپائن، ملایا، برما، سیلون، هندوستان، پاکستان، افغانستان، ایران، شام، عراق، فلسطین اور دوسرے کئی ممالک میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کو دعائیں دیتے ہیں۔اس لیے کہ آپ کے ذریعہ اُن تک اسلام پہنچا۔اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے نام کو بھی وہ نہیں جانتے۔جس طرح گوجرانوالہ کے مدعی نبوت نے مجھے لکھا تھا کہ اگر آپ میری تعریف نہیں کرتے تو میری مذمت ہی کر دیں۔اسی طرح مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی روح کہتی ہوگی کہ اے انگلستان کے لوگو! تم میری تعریف نہیں کرتے تو مجھے گالیاں ہی دو۔اور وہ کہتے ہوں گے بیوقوف! تیرا تو نام بھی ہم نہیں نتے تجھے گالیاں کیسے دیں۔تیرا تو نام بھی خدا تعالیٰ نے مٹا دیا ہے اور وہ ہم تک نہیں پہنچا۔لیکن مرزا صاحب کا نام ہم تک عزت سے پہنچا ہے اور تیرا نام ذلت سے بھی نہیں پہنچا۔پس ہمارے نزدیک تیری کوئی حیثیت نہیں اور گالیاں دینے کے لیے بھی کوئی حیثیت چاہیے۔آخر کتا کاتا ہے تو انسان اُسے پتھر مارتا ہے لیکن اگر کوئی مرغا کسی کے پیچھے آ رہا ہو تو اُسے