خطبات محمود (جلد 37) — Page 573
$1956 573 خطبات محمود جلد نمبر 37 نام نہیں لیتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی خچر کو ایڑ لگا کر دشمن کے لشکر کی طرف بڑھنے لگے تو حضرت ابوبکر نے اپنی سواری سے اُتر کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! تھوڑی دیر کے لیے پیچھے ہٹ آئیں۔یہاں تک کہ اسلامی لشکر جمع ہو جائے۔اس وقت آگے بڑھنے کا موقع نہیں۔دشمن دونوں طرف سے تیر برسا رہا ہے۔آپ نے فرمایا ابوبکر ! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور پھر خچر کو ایڑ لگاتے ہوئے آپ نے اُس تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے سپاہی بے تحاشا تیراندازی کر رہے تھے اور فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ 4 میں خدا کا نبی ہوں۔جھوٹا نہیں ہوں۔اس لیے میدان سے فرار کرنا میری شان کے خلاف ہے۔اگر دشمن دونوں طرف سے تیر برسا رہا ہے تو وہ مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ میرا محافظ ہے لیکن میری اس جرات اور دلیری کی وجہ سے جو میں آٹھ ہزار تیراندازوں کی زد میں ہونے کے باوجود دکھا رہا ہوں یہ خیال نہ کرنا کہ میں خدا ہوں میں خدا نہیں ہوں بلکہ ایک بشر ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ہاں ! مجھے دشمن کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ میں خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہوں اور پھر جس نبوت کا میں نے دعوی کیا ہے اُس کے متعلق پہلے سے یہ پیشگوئی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔پھر آپ نے حضرت عباس کو جو بڑے جمہیر الصوت تھے بلایا اور فرمایا عباس! آگے آؤ اور بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے سورہ بقرہ کے صحابیو! اور اے بیت رضوان کے صحابیو! خدا کا رسول تمہیں ہے۔چنانچہ حضرت عباس آگے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں انہوں نے مسلمانوں کو آواز دی اور کہا اے سورۃ بقرہ کے صحابیو! یعنی اے وہ لوگوں جو سورۃ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو اور جنہوں نے سورۃ بقرہ یاد کی ہوئی ہے اور اے بیت رضوان کے صحابیو! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔صحابہ کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ریلا کی وجہ سے ہماری سواریاں پاگلوں کی طرح دوڑتی جاتی تھیں اور انہیں واپس لوٹانے کا کوئی طریق ہمارے ذہن میں نہیں آتا تھا۔ہم اونٹوں اور گھوڑوں کو واپس کرنے کی کشمکش میں تھے بلاتا