خطبات محمود (جلد 37) — Page 547
خطبات محمود جلد نمبر 37 547 $1956 عبادت کرتے ہیں اور کبھی سے مدد چاہتے ہیں۔ان الفاظ میں مومن کی یہ صفت بیان کی گئی لیلی ہے کہ وہ دلیر اور بہادر ہوتا ہے ڈرپوک نہیں ہوتا۔یہ نہیں ہوتا کہ کبھی وہ ایک طرف جھک جائے اور کبھی دوسری طرف کبھی وہ اس کے آگے ہاتھ پھیلائے اور کبھی اُس کے آگے۔بلکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرتا ہے اور اُسی سے مدد مانگتا ہے۔نہ کبھی وہ غیر سے مدد مانگتا ہے نہ کبھی غیر کے آگے اپنی حاجات لے کر جاتا ہے اور نہ غیر کے آگے کمزوری دکھاتا ہے۔بلکہ وہ دائمی طور پر ایک مقام پر کھڑا رہتا ہے اور اس سے کبھی نہیں ہلتا۔کیونکہ اُس کا ایمان بصیرت پر مبنی ہوتا ہے اور جس بات کو مانتا ہے ٹھیک سمجھ کر مانتا ہے اور دلائل کے ساتھ مانتا ہے اور شرح صدر کے ساتھ مانتا ہے۔یہ معیار ہمارے درمیان اور ان بعض لوگوں کے درمیان جو جماعت مبائعین سے روگرداں ہو رہے ہیں فیصلہ کے لیے کافی ہے۔ہمیں دیکھنا ہی چاہیے کہ آیا اُن کے اندر وہی روح پائی جاتی ہے جو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بیان کی گئی ہے؟ یا کبھی وہ ہمیں خوش کرنے کے لیے ہماری طرف جھکتے ہیں اور کبھی وہ یہ خیال کر کے کہ یہ تو ہمارے قابو میں نہیں آتے غیروں کی طرف جھک جاتے ہیں کہ شاید وہ ان کی مدد کریں؟ میں کل ہی وہ خطوط دیکھ رہا تھا جو ایسے لوگوں کی طرف سے آئے ہیں۔میں نے دیکھا کہ ان میں سے بہتوں کی طرف سے ایسے خطوط آئے تھے جن میں عجز وانکسار کا اظہار تھا اور اس بات کا اقرار تھا کہ ہم تو آپ سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کے جاں نثار ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں، ہم پر یونہی الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم آپ کے خلاف ہیں۔لیکن بعد میں انہی ان لوگوں نے ہمارے خلاف جلسے کیے، اخباروں میں مضمون لکھے اور پارٹیاں بنائیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ ان کا عمل اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر نہیں۔کیونکہ اگر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر ان کا عمل ہوتا تو ہمارے خلاف خیالات رکھتے ہوئے وہ ہماری طرف رجوع کیوں کرتے اور اگر وہ واقع میں خدا تعالیٰ کے پرستار ہوتے اور ہماری طرف رجوع کرنے کے حالات ان کے دلوں میں پیدا تھے تو پھر وہ غیروں کی طرف رجوع کیوں کرتے اور ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے کوشش کیوں کرتے۔آخر سیدھی بات ہے کہ اگر وہ ہمارے ہیں تو وہ ہمارے غیر کی طرف نہیں جا سکتے اور اگر وہ ہمارے غیر کے ہیں تو ہماری طرف