خطبات محمود (جلد 37) — Page 473
$1956 473 خطبات محمود جلد نمبر 37 بالکل ٹیری کی سی ہے۔ساری دنیا میں اسلام پھیلانا کوئی معمولی بات نہیں۔لیکن سب قومیں کہتی ہیں کہ ہم دوسرے ممالک کی تبلیغ کا بوجھ کیوں اُٹھائیں؟ ہمارے مبلغ ہوں، ہمارے سکول ہوں تو ان کا بوجھ ہم اُٹھا لیں گے۔لیکن یہاں جامعتہ المبشرین ہے۔اس میں عرب بھی آ کر پڑھتے ہیں ، سوڈانی بھی پڑھ رہے ہیں، سالی بھی پڑھ رہے ہیں اور جرمن بھی پڑھے ہیں، انگریز بھی پڑھے ہیں، امریکن بھی پڑھے ہیں۔لیکن کبھی بھی پاکستانی یہ نہیں کہتا کہ میں کیوں بوجھ اٹھاؤں؟ یہ تو غیر ملکوں کے لوگ ہیں پاکستانی نہیں۔بلکہ یہ کہتا ہے الْحَمدُ لِلهِ ایک بھائی اور آ گیا۔گویا یہ سب کو اپنا بھائی سمجھتا ہے کیونکہ اس میں أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ والی روح پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے غیر ملکی تو مسلم بھی اسے اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور ان کے دلوں میں بھی ان کا ادب اور احترام ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بوجھ اُٹھانا تو ہم سب کے ذمہ تھا مگر یہ مالی لحاظ سے کمزور ہوتے ہوئے بھی سارا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔شامیوں کو دیکھ لو، ملک شام وسعت میں پاکستان سے چھوٹا ہے لیکن اس کی آمد ہمارے ملک کی آمد سے بہت زیادہ ہے۔مجھے یاد ہے جب ہم 1924ء میں لندن گئے تو چودھری علی محمد صاحب میرے ساتھ تھے۔انہوں نے بیت المقدس میں ایک قمیص دُھلائی۔جب وہ ڈھل کر آئی تو دھوبی نے ڈیڑھ روپیہ اجرت مانگی۔چودھری علی محمد صاحب نے کہا میں نے تو بارہ آنے میں قمیص سلوائی ہے اور تو ڈیڑھ روپیہ ڈھلائی کی اُجرت مانگتا ہے؟ اُس وقت کپڑا سستا ہوتا تھا۔آخر کسی نے ہنس کر کہا اس کو قمیص ہی دے دو۔دھوبی راضی ہو گیا اور انہوں نے اُسے قمیص دے کر پیچھا چھڑایا۔دھوبی قمیص لے کر چلا گیا اور انہوں نے شکر کیا کہ ڈیڑھ روپیہ بچ گیا۔غرض اس ملک کی مالی حالت بہت اچھی ہے۔مزدور کی مزدوری اتنی زیادہ ہے کہ تم لوگ اس کا خیال بھی نہیں کر سکتے۔وہاں ایک معمولی ملازم پندرہ سولہ پاؤنڈ ماہوار کما لیتا ہے۔پس ان لوگوں کے پاس مال زیادہ ہے مگر ملک چھوٹا ہے۔اگر اُن کی روح بھی پاکستانیوں والی ہو جائے تو وہ جماعت کے لیے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔پاکستان غریب ہے مگر اس کی روح أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ والی ہے۔سارا دن وہ مزدوری کرتا ہے، لنگوٹا کسا ہوا ہوتا ہے اور وہ مٹی کی ٹوکریاں ڈھوتا ہے