خطبات محمود (جلد 37) — Page 371
$1956 371 خطبات محمود جلد نمبر 37 وصیت نہیں کی۔ہاں! جب آپ فوت ہو گئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے آپ کے ایک الہام سے یہ سمجھا کہ آپ کے خاندان کو گزارہ دینا چاہیے اور آپ نے ہمارے لیے کچھ گزارہ کی مقرر کر دیا۔جب مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم جو ہمارے بڑے بھائی تھے قادیان آئے تو کی انہوں نے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو میرے پاس بھیجا۔وہ مجھے بڑی مسجد کی طرف جاتے ئے ملے۔میں غالباً اُس وقت درس سننے کے لیے جا رہا تھا۔انہوں نے مجھے کہا کہ مرز اسلطان احمد صاحب نے مجھے یہ پیغام آپ تک پہنچانے کے لیے دیا ہے کہ خاندان کی ہتک ہو گی آپ ہرگز کوئی گزارہ قبول نہ کریں۔مجھے اس بات پر غصہ آیا کہ وہ تو غیر احمدی ہیں۔انہیں کیا حق ہے کہ ہمارے متعلق کوئی بات کہیں۔چنانچہ میں نے انہیں کہلا بھیجا کہ جماعت سے گزارہ لینا یا نہ لینا ہمارا کام ہے۔میں اس بارہ میں آپ کا کوئی مشورہ سننے کے لیے تیار نہیں۔چنانچہ اس کے بعد میں نے اپنے طور پر صدرانجمن احمدیہ سے کہہ دیا کہ ہم کوئی گزارہ لینے کے لیے تیار نہیں۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الاول کو یہ اصرار رہا کہ ہمیں گزارہ لینا چاہیے۔آپ فرماتے تھے کہ میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کو پورا کر رہا ہوں۔وہ الہام وہ ہے جس میں علم الدرمان 2223 کے الفاظ آتے ہیں۔اس ا سے آپ یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے لیے گزارہ مقرر کرنا چاہیے۔بہر حال حضرت خلیفہ اسیح الاول نے اپنی اولا د کو صرف خدا تعالیٰ کے سپرد ہی نہیں کیا بلکہ آپ نے ان کی پرورش کے لیے وصیت فرمائی کہ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے اور ان کی پرورش کی جائے۔اس کے بعد لائق لڑکے اسے ادا کریں۔لیکن ہم نے ان کی پرورش کے لیے کی قرضہ حسنہ جمع نہیں کیا بلکہ آج تک انہیں وظائف دے کر پڑھاتے رہے۔چنانچہ آپ کے بعض بچوں کو سو سو روپیہ ماہوار وظیفہ ملتا رہا ہے۔میاں عبدالسلام صاحب مرحوم کو بھی سو روپیہ ماہوار وظیفہ ملتا رہا جب وہ علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔اور عبدالمنان کو بھی اتنا ہی وظیفہ ملتا تھا جب وہ علی گڑھ میں پڑھتے تھے۔عبد الوہاب کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ اسے کس قدر وظیفہ ملتا رہا ہے۔بہر حال حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے تو یہ وصیت فرمائی تھی