خطبات محمود (جلد 37) — Page 331
$1956 331 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہو چکی ہے مگر یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہی ہے کہ میں نے ان دنوں میں قرآن کریم کے بائیں پاروں کا ترجمہ مکمل کر لیا ہے اور امید ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے طاقت دی تو اگست کے آخر یا ستمبر کے شروع میں سارا ترجمہ ختم ہو جائے گا۔اب ایک تندرست آدمی بھی اتنا علمی کام اتنے ای تھوڑے عرصہ میں نہیں کر سکتا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرما دی اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دے دی ہے۔آخر دنیا میں بڑے بڑے علماء موجود ہیں انہیں کیوں یہ توفیق نہیں ملتی کہ وہ اتنے قلیل عرصہ میں قرآن کریم کا ترجمہ کر دیں۔اور پھر یہ ترجمہ معمولی ترجمہ نہیں بلکہ جب یہ چھپے گا تو لوگوں کو پتا لگے گا کہ یہ ترجمہ کیا ہے، تفسیر ہے۔پس جو کام بڑے بڑے علماء پانچ سال کے عرصہ میں بھی نہیں کر سکتے تھے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میں نے تھوڑے سے عرصہ میں کر لیا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دے دی ہے اور خدا تعالیٰ کے تازہ الہام سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مجھ سے سوال کرے کہ پھر اپنے آپ کو بیمار کیوں سمجھتے ہیں؟ تو مجھے اس کا یہی جواب دینا پڑے گا کہ میں صرف بدظنی اور مایوسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہوں ورنہ حقیقتا اللہ تعالیٰ نے مجھے تندرست کر دیا ہے۔بہر حال میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں اس موقع پر ہوشیار رہنا چاہیے اور چونکہ یہ معاملہ آسمانی ہے اس لیے انہیں دعاؤں میں لگے رہنا چاہیے کیونکہ منافق کا علاج سوائے خدا کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔تمہارے ریزولیوشن صرف اُس کو ہوشیار کر دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ جو دلوں کا واقف ہے جانتا ہے کہ اُس کی اصلاح کیسے کی جا سکتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو جماعت کے متقی لوگ اب قسمیں کھا کھا کر منافقوں کے متعلق شہادتیں دے رہے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھے کہ وہ سال یا چھ ماہ تک کیوں خاموش رہے تھے؟ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ کوئی لکھتا ہے سال ہوا میں نے یہ بات دیکھی تھی۔اب میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے ظاہر کر دوں۔کوئی لکھتا ہے چھ ماہ ہوئے میں نے یہ واقعہ دیکھا تھا۔اب میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے ظاہر کر دوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس وقت تک خدا تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ یہ معاملہ مخفی رہے۔اب اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اسے ظاہر کر دیا جائے۔