خطبات محمود (جلد 37) — Page 239
$1956 239 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ انسان روپیہ خرچ کرتا چلا جائے اور یہ نہ سوچے کہ کل کو کیا بنے گا۔اگر میں نے دس گیارہ ہزار پونڈ ان کو دیا تھا تو اُن کو چاہیے تھا کہ وہ اس کا دسواں حصہ خرچ کرتے اور اس خرچ کے معاً بعد اس سے دوگنا اور جمع کرنے کی کوشش کرتے۔پھر دسواں حصہ خرچ کر لیتے اور دو حصے اور جمع کر لیتے۔اگر وہ ایسا کرتے تو جتنا روپیہ میں نے ان کو دیا تھا اس سے سوا ہے رو پید ان کے پاس موجود ہوتا۔مگر انہوں نے میرا اتنا بُرا حال کر کے کہ میں موت کے قریب پہنچ گیا بلکہ شاید فالج کے حملہ کے بعد میں اتنا موت کے قریب کبھی نہیں پہنچا جتنا اس وقت پہنچا تھا۔اب آ کر لکھ دیا ہے کہ فلاں ترکیب سے بھی کام ہو سکتا ہے اور فلاں ترکیب سے بھی پونڈ جمع ہو سکتا ہے۔کوئی ان بیوقوفوں سے پوچھے کہ تم نے ان تدبیروں کو سال بھر کیوں استعمال نہ کیا اور کیوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے؟ حالانکہ اسی ترکیب سے میں نے یہ رقم اکٹھی کی تھی۔ہماری کئی جماعتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے بیرونی ممالک میں موجود ہیں اور وہ اپنے اندر بڑا اخلاص اور دین کا جوش رکھتی ہیں۔انہوں نے سفر یورپ کے موقع پر بہت سے پونڈ بھجوا دیئے جن سے ہمارا کام چلتا چلا گیا اور اس روپیہ پر پاکستان کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔چنانچہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے جب ہمیں کچھ روپیہ کی اجازت دی تو ہم نے اُس پوچھا کہ بیرونی ممالک میں بھی ہماری جماعتیں ہیں۔اگر وہ ہماری امداد کے لیے کچھ یہ بھجوائیں تو کیا اس پر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا ؟ انہوں نے کہا کہ وہ آپ کو جتنا روپیہ بھجوانا چاہیں بھجوا سکتی ہیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔چنانچہ انہوں نے روپیہ بھجوایا اور اس سے بیماری اور کھانے وغیرہ کے اخراجات پورے ہوئے۔روپیه پھر وہاں میں نے ایک موٹر بھی خریدا۔جب میں آنے لگا تو سوال پیدا ہوا کہ کہیں پاکستان گورنمنٹ اعتراض نہ کر دے کہ ہم نے تو تمہیں اتنا روپیہ نہیں دیا تھا تم نے یہ موٹر کہاں سے خرید لیا؟ اس پر ہمیں پتا لگا کہ حکومتِ پاکستان اس روپیہ پر کوئی اعتراض نہیں کرتی جو باہر کے ممالک سے حاصل کیا گیا ہو۔چنانچہ ہم نے وہاں کے بنک کو لکھا کہ بتاؤ یہ باہر کا روپیہ ہے یا نہیں؟ اس نے ہمیں سرٹیفکیٹ دے دیا کہ یہ روپیہ انہیں افریقہ سے آیا ہے۔