خطبات محمود (جلد 37) — Page 232
$1956 232 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نے کہا پوچھیں۔کہنے لگے جب میں پہلے پہل احمدیت کی طرف مائل ہوا تھا تو مجھے بڑے بڑے روحانی انکشافات ہوا کرتے تھے مگر اب وہ بات نہیں رہی۔میں نے کہا کبھی آپ بازار گئے ہیں؟ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کوئی مٹھائی والے کی دکان پر جا کر کھڑا ہوتا ہے تو دکاندار اسے کہتا ہے کہ خان صاحب یا شاہ صاحب ! آپ تھوڑی سی زندگی لے لیں۔چنانچہ وہ تھوڑی سی مٹھائی اُسے چکھنے کے لیے دے دیتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ مٹھائی چکھے تو خرید لے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی حلوائی کی طرح شروع شروع میں وندگی دیا کرتا ہے جیسے دکاندار کہتا ہے کہ ذرا جلیبیاں چکھ لیں یا لڈو چکھیں اور اگر کوئی ناواقف ہاتھ کھینچے تو وہ کہتا ہے نہیں نہیں ! یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔یہی کیفیت روحانیات میں بھی ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص روزانہ دکان پر جا کر کھڑا ہو جائے اور یہ امید رکھے کہ اُسے ہر روز وندگی ملتی چلی جائے تو دکاندار سمجھے گا کہ یہ بڑا بے حیا ہے اور وہ اسے چکھنے کے لیے بھی مٹھائی نہیں دے گا۔اسی طرح جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف اپنا قدم بڑھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کو وندگی دیتا ہے اور اُس کی زندگی یہی ہوتی ہے کہ کبھی الہام نازل کر دیا یا کشف دکھا دیا یا سچی خواب دکھا دی۔مگر اس کے بعد انسان کو خود کوشش اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔اگر وہ درود پڑھے، تسبیح و تحمید کرے، قرآن کریم کی تلاوت کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا رہے کہ الہی! میرے دل کو صاف کر دے تا کہ میں تیری آواز کو سن سکوں تو پھر بعد میں بھی مستقل طور پر یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندہ سے خوش ہوتا ہے۔جیسے مٹھائی فروش جو پہلے دن صرف وندگی دیتا ہے اگر اُس سے دوسرے دن کوئی سو روپیہ کی مٹھائی لے لے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔مگر جسے مٹھائی کی عمدگی کا کچھ پتا ہی نہیں ہوتا دکاندار اسے ابتدا میں تھوڑی سی مٹھائی چکھاتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کا خریدار بن جائے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کبھی وحی و الہام مفت دے دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کے مزے کو چکھ کر بندہ اُس کو خریدنے کی کوشش کرے۔اگر وہ نہیں خریدتا تو خدا تعالیٰ کہتا ہے یہ مفت خور ہے۔اگر اسے اس چیز کی اہمیت کا احساس ہوتا تو یہ اس کی قیمت بھی ادا کرتا۔اگر یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تو میں اسے یہ نعمت مستقل طور پر کیوں دوں؟ خدا تعالیٰ کے الہام کی قیمت