خطبات محمود (جلد 37) — Page 132
$1956 132 خطبات محمود جلد نمبر 37 بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد صرف بارہ صحابی رہ گئے اور تین اطراف سے قریباً چار ہزار تیر انداز تیر برسا رہے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہماری سواریاں اس قدر ڈرگئی تھیں کہ ہمارے ہاتھ باگیں موڑ تے موڑتے زخمی ہو گئے۔لیکن اونٹ اور گھوڑے واپس مڑنے کا نام نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ہم باگیں اس زور سے کھینچتے تھے کہ اونٹ یا گھوڑے کا سر اُس کی پیٹھ کو لگ جاتا مگر پھر جب ہم اُسے پیچھے کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے مُڑنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگ پڑتا۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو بلایا اور اُن سے فرمایا عباس! بلند آواز سے کہو کہ اے وہ لوگو جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورۃ بقرہ کے زمانہ کے مسلمان ہو! خدا تعالیٰ کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔حضرت عباس نے جب یہ آواز دی تو وہ صحابی کہتے ہیں کہ ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا ہم مر چکے ہیں، قیامت کا دن آ گیا ہے اور اسرافیل بگل بجا کر ہمیں بلا رہا ہے۔تب ہم میں سے جو اپنی سواریاں موڑ سکے انہوں نے اپنی سواریاں موڑ لیں اور جو سواریاں نہ موڑ سکے انہوں نے تلواروں سے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کی گردنیں کاٹ دیں اور خود دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ الله لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ الله - اے رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں۔اے رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں اور چند منٹ میں ہزاروں کا لشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گیا۔2 دیکھو! صحابہؓ میں کس قدر جوش اور ایمان پایا جاتا تھا کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آواز پر کہ خدا تعالیٰ کا رسول تمہیں بلاتا ہے اپنی سواریوں کی گردنیں ٹاٹ دیں اور دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم اسلام کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔پس جن لوگوں کی قسمت میں دین کی خدمت کرنا ہوتا ہے وہ خود بخود اس کے لیے آگے آ جاتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کی قسمت میں یہ نیکی نہیں انہیں نہ میرے خطبات کام دے سکتے ہیں، نہ دوسروں کی مثالیں انہیں