خطبات محمود (جلد 37) — Page 66
$1956 66 خطبات محمود جلد نمبر 37 نے لکھا ہے کہ میں دین کے لیے اپنی زندگی وقف کرتا ہوں لیکن میں فوری طور پر اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتا کیونکہ جبری بھرتی کے قانون کے ماتحت میں آئندہ پانچ سال تک فارغ نہیں ہوسکتا۔چونکہ اس عرصہ کے ختم ہونے سے پہلے حکومت مجھے آنے نہیں دے گی اس لیے جب یہ مدت ختم ہو جائے گی تو پھر میں کام کے لیے آ جاؤں گا۔پس جماعت کے نوجوانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سلسلہ کا کام علماء نے کرنا ہے اور اگر علماء کی صف میں رخنہ پیدا ہوا تو سلسلہ ختم ہو جائے گا۔پس تم اس نقطہ نگاہ سے نہ سوچا کرو کہ ہمیں کیا گزارہ ملتا ہے بلکہ تم اس نقطہ نگاہ سے سوچا کرو کہ کیا تمہارے بغیر دین باقی رہ سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سلسلہ احمد یہ روحانی طور پر ہمیشہ قائم رہے گا۔اگر تم اپنے آپ کو آگے نہیں لاؤ گے تو خدا تعالیٰ دوسرے نوجوانوں کو اس کام کے لیے کھڑا کر دے گا۔لیکن یہ تو اتی روحانی مسئلہ ہے۔اگر جسمانی طور پر دیکھا جائے تو جس طرح فوج کے بغیر کسی دنیوی حکومت کا برقرار رہنا ممکن نہیں اسی طرح علماء نہ ہوں تو دین قائم نہیں رہ سکتا۔دینی جماعت کی فوج کی اُس کے علماء ہیں۔اگر علماء ہی نہ ہوں گے تو تبلیغ کیسے وسیع ہو گی، اسلام کی اشاعت کیسے ہو گی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ہمارے پاس جو مبلغ ہیں وہ بہت تھوڑے ہیں اور دنیا ہم سے مبلغین مانگ رہی ہے۔امریکہ والے مبلغ مانگ رہے ہیں، یورپ والے مبلغ مانگ رہے ہیں، ویسٹ افریقہ والے مبلغ مانگ رہے ہیں، ایسٹ افریقہ والے مبلغ مانگ رہے ہیں لیکن مالی لحاظ سے ہماری یہ حالت ہے کہ ہم ان مبلغین کو بھی جو اس وقت ہمارے پاس ہیں اور ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے گزارہ نہایت قلیل مقدار میں دے رہے ہیں۔بلکہ جو گزارہ ہم دے رہے ہیں بعض اوقات اُس کی ادائیگی بھی مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ خزانہ میں روپیہ نہیں ہوتا مثلاً پیچھے سال میرے یورپ جانے پر جماعت نے بہت بڑی قربانی کی لیکن پھر بھی ہماری۔ت تھی کہ تحریک جدید کے کارکنوں کو دو ماہ تک گزارہ نہیں مل سکا۔اور اس کی وجہ یہی تھی کہ چندہ نہیں آیا تھا اور خزانہ میں روپیہ نہیں تھا۔اب اگر نئے علماء پیدا ہوتے رہیں تو ہم مبلغین کی تعداد بھی بڑھا سکیں گے اور مبلغین کی تعداد بڑھے گی تو وہ جماعت میں بھی بیداری پیدا