خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 601

601 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کے ساتھ ہے۔پھر تنظیم اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جماعت کی مخالفت محض شیطانی چڑ کی وجہ سے ہو رہی ہے اور جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہو اُس کے خلاف چلنا مولوی محمد حسین بٹالوی والی بات ہے۔میاں نظام الدین صاحب اُس کے ساتھ تھے جس کے ساتھ خدا تھا۔چنانچہ انہوں نے مولوی محمد حسین بٹالوی سے یہی کہا کہ جدھر قرآن اُدھر میں۔مولوی محمد حسین بٹالوی اُدھر تھے جدھر قرآن نہیں تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ حدیث جو ظنی چیز ہے وہ جدھر جائے اُدھر میں جاؤں گا اور میاں نظام الدین صاحب کہتے تھے کہ قرآن یقینی چیز ہے۔جدھر قرآن جائے گا اُدھر میں جاؤں گا۔نتیجہ یہ نکلا کہ میاں نظام الدین صاحب ہدایت پا گئے اور مولوی محمد حسین بٹالوی ناکام ہوئے اور انہیں اس دنیا میں بھی اتنی ذلت اور ناکامی دیکھنی پڑی جو شاید ہی اور کسی بڑے لیڈر کو دیکھنی پڑی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ایک دفعہ پادریوں نے مقدمہ دائر کیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی ان کی طرف سے گواہ بن کر عدالت میں پیش ہوئے۔جب وہ مجسٹریٹ کے سامنے گئے جو ڈپٹی کمشنر تھا تو اُس نے انہیں کرسی نہ دی۔اس پر وہ غصہ کی وجہ سے ڈائس (DAIS) پر چڑھ گئے اور کہنے لگے میں گورنر کو بھی ملتا ہوں تو وہ مجھے کرسی دیتا ہے پھر آپ نے مجھے کرسی نہیں دی۔مجسٹریٹ نے کہا مولوی صاحب گورنر کے پاس تو کوئی چوڑھا بھی چلا جائے تو وہ اُسے کرسی دیتا ہے۔مگر وہ اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی تو پرائیویٹ ملاقات کے لیے جائے۔یہ تو عدالت ہے اور عدالت میں کرسی اُس کو ملے گی جو اس کا مستحق ہے۔جب وہ پھر بھی نہ ہے تو مجسٹریٹ انہیں ڈانٹ کر کہنے لگا دور ہٹ جا اور جوتیوں میں بیٹھ جا۔اس پر وہ باہر آ گئے اور اس خیال سے کہ باہر کے لوگوں کو اُن کی ذلت کا پتا نہ لگے برآمدہ میں پڑی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔اب چپڑاسی بھی اُدھر ہوتا ہے جدھر مجسٹریٹ ہو۔عدالت کے چپڑاسی نے وہ سب کچھ دیکھا تھا جو اندر پیش آیا تھا۔اُس نے مولوی محمد حسین صاحب کو کہا کہ کرسی چھوڑیئے اور یہ کہتے ہوئے اُس نے انہیں کرسی اُٹھا دیا۔اس طرح انہیں وہ جھوٹی عزت بھی نہ ملی جو وہ دوسروں کی نظر میں حاصل کرنا اہتے تھے۔اس کے بعد وہ عدالت سے باہر آ گئے۔باہر سینکڑوں لوگ یہ دیکھنے آئے تھے