خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 566

$1956 566 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نے کہا معلوم ہوتا ہے آپ کے والد نے آخری عمر میں دوسری شادی کی تھی جس سے آپ پیدا ہوئے اس لیے آپ کی عمر ان سے چھوٹی معلوم ہوتی ہے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ ” جدوں غلام رسول دی ماؤ دا ویاہ ہو یاسی میں اٹھارہ سال دا ساں، یعنی جب حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کی والدہ کا بیاہ ہوا تھا اُس وقت میں اٹھارہ سال کا تھا۔بعد میں وہ ایک سوتین : ایک سو سات سال کی عمر میں فوت ہوئے اور وہ اس عمر میں بھی خوب چل پھر لیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں ہیں ہیں ، بچھپیں چھپیں میل پیدل چلا جاتا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ جن لوگوں کی مدد کرتا ہے اور وہ اپنی صحت کی حفاظت کرتے ہیں اُن کی عمریں عام قانون کے لحاظ سے زیادہ ہو جاتی ہیں۔بعض عمریں بیشک غیر معمولی ہوتی ہیں اور اُن کی ہمیں تاویل کرنی پڑتی ہے۔مثلاً قرآن کریم میں بھی اور بائبل میں بھی حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال کی بیان ہوئی ہے۔2 اس کی ہم تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد در حقیقت اُن کی کی امت کا زمانہ ہے۔لیکن تاریخی لحاظ سے جو واقعات مشہور ہیں اور جو باتیں ہمارے سامنے کی ہیں اُن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے تو انسان خاصی لمبی عمر پا سکتا ہے اور پھر وہ اس عمر میں اچھی طرح کام بھی کر سکتا ہے۔پس دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری صحت میں برکت دے تا کہ جو دم باقی ہیں وہ دین کی خدمت میں صرف ہوں اور نہ صرف اسلام اور احمدیت کو ترقی حاصل ہو بلکہ خود دعا کرنے والے کو بھی ثواب ملے اور اُس کے ساتھیوں کو بھی امن اور سکون نصیب ہو۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مسلمانوں کو امن اور چین نصیب ہو گیا۔اگر آپ مکہ فتح نہ کرتے تو مسلمانوں پر برابر ظلم ہوتے رہتے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات دیں تو اُن کے نتیجہ میں مکہ مدینہ اور اس کے اردگرد کے علاقہ میں مسلمانوں کو امن میسر آ گیا۔پھر حضرت ابوبکر کے زمانہ میں جو فتوحات ہوئیں اُن کی وجہ سے سارے عرب اور عراق اور شام میں مسلمانوں کو امن نصیب ہو گیا۔پھر حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ذریعہ سے انطاکیہ تک کا علاقہ فتح ہوا اور وہاں مسلمان امن سے رہنے لگے۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ جوں جوں اسلام ترقی کرتا گیا مسلمانوں کے لیے امن کی