خطبات محمود (جلد 37) — Page 561
خطبات محمود جلد نمبر 37 561 $1956 میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ سیالکوٹ کے ایک دوست تھے جو بڑے مخلص تھے۔قادیان میں اکثر آیا کرتے تھے مگر انہیں اعتراض کرنے کا بہت شوق تھا ایک دفعہ ایک غریب احمدی نے مجھے دعوت پر بلایا، چائے پر یا کھانے پر، اس وقت مجھے یاد نہیں رہا۔کئی دن تک میں ٹلاتا رہا کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ یہ غریب آدمی ہے لیکن ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے کہا شاید اس لیے کہ میں غریب ہوں آپ میرے ہاں کھانا کھانا پسند نہیں فرماتے۔اس پر مجھے خیال آیا کہ خواہ مخواہ اسے ٹھوکر لگے گی اس کی دعوت قبول کر لو۔چنانچہ ایک دن میں اُس احمدی دوست کے گھر چلا گیا۔سیالکوٹ کے و احمدی دوست جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے وہ ہمیشہ ٹوہ 7 میں رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے تو وہ اعتراض کریں۔میں جب باہر نکلا تو وہ دروازہ کے پاس کھڑے تھے۔مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے کیوں جی! کیا ایسے غریب لوگوں کی دعوت بھی آپ قبول کر لیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا ہمارے لیے ہر طرح مصیبت ہی ہے۔جب میں اس شخص کی دعوت رڈ کرتا تھا تو وہ کہتا ہے تھا مجھے غریب سمجھ کر میری دعوت رڈ کرتے ہیں اور اب جو میں نے اس کی بات مان لی تو تم دروازہ کے سامنے کھڑے ہو اور کہتے ہو کہ کیا ایسے غریبوں کی دعوت بھی آپ کھا لیتے ہیں؟ تو دیکھو ہماری جماعت میں وہ وہ مخلص پائے جاتے ہیں کہ ان پر غربت اور مفلسی چھائی ہوئی ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ اسلام کے لیے آگے بڑھ کر قربانیاں کرتے ہیں، مزدوریاں کرتے ہیں اور چندے دیتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ جماعت کو تحریک کی تھی کہ کچھ زائد کام محنت مزدوری کا کرو اور تحریک جدید میں چندہ دو۔چنانچہ سینکڑوں روپیہ دوستوں نے محنت اور مزدوری کر کے دین کی خدمت کے لیے دیا لیکن چونکہ اب اس تحریک کو دیر ہو گئی ہے اس لیے اس چندہ میں کمی واقع ہی ہو گئی ہے۔میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے محنت کرو اور زائد آمد پیدا کر کے اس تحریک میں حصہ لو۔مالدار آدمی بھی چاہے تو اسٹیشن پر جا کر قلی کا کام کر لے یا بازار میں کوئی مزدوری کر لے اور اُس سے جو آمد ہو وہ تحریک جدید میں دے دے۔پھر میں نے کہا تھا کہ زمیندار اگر آٹھ ایکڑ ہوتا ہے تو ایک کنال وہ سلسلہ کے لیے بھی ہوئے اور اُس پر زیادہ