خطبات محمود (جلد 37) — Page 43
$1956 43 خطبات محمود جلد نمبر 37 کے لیے کھڑا کر دے گا۔لیکن اگر بیرونی ممالک کے افراد نے یہ کام سرانجام دیا تو اس۔مجھے اتنی خوشی نہیں ہو سکتی جتنی تمہاری وجہ سے خوشی ہو سکتی ہے۔تم میرے حقیقی بیٹے تو نہیں ہولیکن اُس قُرب کی وجہ سے جو مجھے تم سے ہے تم مجھے دوسروں سے زیادہ عزیز ہو۔اگر بیرونی ممالک کے نوجوان آگے آگئے تو بیشک یہ اُن کے لیے اور اُن کے والدین کے لیے بڑی خوشی اور برکت کا موجب ہو گا۔لیکن تم اس سے محروم رہ جاؤ گے۔پس تم ان امور پر غور کرو اور مجھے بتاؤ کہ تم نے اس بارہ میں غور کر کے کیا حل تلاش کیا ہے؟ کیا تم نے اپنی اصلاح کر لی ہے؟ کیا تم نے اپنے اندر دعاؤں کی عادت پیدا کر لی ہے؟ کیا تم میں اور دوسرے نوجوانوں میں نماز کی پابندی اور دین کی خدمت کی رغبت پیدا ہوگئی ہے؟ کیا تمہیں اس بات کی تحریک ہو گئی ہے کہ تم مختلف مسائل کے متعلق علمی کتابیں تصنیف کرو؟ ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ضروری باتیں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابوں میں نہیں ملتیں لیکن عیسائی مصنفین کی کتب میں اُن کا ذکر مل جاتا ہے۔تفسیر لکھتے ہوئے میں نے بعض باتوں کی تحقیق کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اُن کا ذکر ہماری تفسیروں میں نہیں لیکن عیسائیوں نے اُن کا ذکر کیا ہوا ہے۔گویا اسلام کے تباہ کرنے والے لوگوں نے تو ہماری کتابیں پڑھیں لیکن خود مسلمانوں نے اُن کا مطالعہ نہیں کیا۔پس تم علوم کی طرف توجہ کرو اور دنیا کے سامنے نئی چیزیں پیش کرو۔اور یاد رکھو کہ زمانہ کی نئی رو اور نئی ضرورتوں کے ساتھ تعلق رکھنا نہایت ضروری ہوتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو آپ نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن آپ کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جس قدر انکشافات فرمائے ہیں وہ دنیا کی نئی کرو اور ضرورت کے مطابق ہیں۔پس تم بھی زمانہ کی رو اور ضرورت کو ملحوظ رکھو اور یورپین مصنفین کی کتب کا مطالعہ کرو اور دیکھو کہ اُن کے دماغ کس طرف جا رہے ہیں۔اگر تم نے اس طرح کام کرنا شروع کر دیا تو تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ تمہارے کاموں میں کس طرح برکت ڈالتا ہے اور سلسلہ کا کام کس طرح چلتا ہے۔لیکن یاد رکھو! تمہاری کتابیں حقیقی طور پر اُس وقت مفید کہلائیں گی جب خود عیسائی مصنفین یہ لکھیں کہ ہمیں