خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 505

$1956 505 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔یہ لوگ بھی دیکھتے ہیں کہ فلاں رؤیا یا کشف پورا ہو گیا ہے لیکن کی چونکہ ان کا دل اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے کہہ دیتے ہیں کہ یا اللہ ! یہ جھوٹ ہی ہو ہو۔حالانکہ جو بات پوری ہو جائے اسے جھوٹا کون کہہ سکتا ہے۔جو بات واقع میں پوری جائے اُسے جھوٹا کہنے والا پاگل ہی ہو سکتا ہے۔اگر ہم ایک خواب کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ پوری ہو گئی ہے تو تم اس کے متعلق یہ تو کہہ سکتے ہو کہ تمہارا یہ دعوی غلط ہے وہ خواب پوری نہیں ہوئی۔لیکن جو خواب پوری ہو گئی ہے اُس کے متعلق یہ کیوں کہتے ہو کہ اسے وحی نبوت کا مقام دیا جا رہا ہے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ تم سورج کو سورج کیوں کہتے ہو؟ تم زمین کو زمین کیوں کہتے ہو؟ تم دریا کو دریا کیوں کہتے ہو؟ تم لوگ بیشک سورج کو چھچھوندر کہہ دو، دریا کو پیشاب کہہ دو، پہاڑ کو کنکر کہہ دو یہ تمہاری مرضی ہے۔ہم لوگ سچ کو سچ کہیں گے۔سورج کو سورج کہیں گے، دریا کو دریا کہیں گے اور پہاڑ کو پہاڑ کہیں گے۔میں نے بتایا ہے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی اور وہ رؤیا الفضل میں بھی چھپ چکی ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ پیغام صلح کا یہ لکھنا کہ اے ربوہ کے باغیو! ہمارا نظام، ہمارا روپیہ اور ہمارا اسٹیج تمہارے لیے حاضر ہے۔ہم تمہاری پوری پوری مدد کریں گے۔اس رویا کی صداقت کو ظاہر کر رہا ہے۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائکہ ربوہ کے اوپر سارے جو میں وہ آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں جو قرآن شریف میں یہودیوں اور منافقوں کے لیے آئی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ سے نکل جائیں گے۔اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑائی کریں گے۔لیکن قرآن کریم منافقوں سے فرماتا ہے کہ نہ تم یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ سے نکلو گے اور نہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑو گے۔یہ دونوں جھوٹے وعدے ہیں اور صرف یہودیوں کو انگیخت کرنے کے لیے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو پہلے تو پیغامیوں نے کہا کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اب وہ منافقوں کو ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا روپیہ اور ہماری تنظیم اور ہمارا اسٹیج سب کچھ تمہارے لیے وقف ہے۔گویا وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو خواب میں بتایا گیا تھا۔لیکن ابھی زیادہ زمانہ نہیں