خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 499

خطبات محمود جلد نمبر 37 499 $1956 جائے گا۔جماعتوں میں جونہی میرا یہ خطبہ پہنچے وہ فوری طور پر اپنا اجلاس بلائیں اور خدام اور انصار کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیں کہ وہ گھر بہ گھر پھریں اور ہر احمدی سے تحریک جدید کی کے لیے وعدہ لیں۔یہ کام پہلے ہی بہت اہم تھا مگر جیسا کہ میں نے خطبہ میں بیان کیا تھا گزشتہ سال تحریک جدید پر اڑھائی لاکھ روپیہ قرض ہو گیا۔اس قرض کو اُتارنے اور بعض نئے مشن قائم کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ دوست پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص اور قربانی سے کام لیں۔اس سال ایک پروفیسر جرمنی سے یہاں آ رہے ہیں اور وہ کچھ عرصہ ربوہ میں ہے۔ہے کریں گے اور دینی تعلیم حاصل کریں گے۔اُن کے لیے بھی اخراجات کی ضرورت ہے پھر دو طالبعلم فلپائن سے دینی تعلیم کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔اُن کے اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔اس کے علاوہ ایک اور جرمن پادری جو نئے مسلمان ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے تا کہ وہ ربوہ میں تعلیم حاصل کریں اور پھر جرمنی میں تبلیغ اسلام کریں۔اُن کے انتظام کے لیے بھی روپیہ کی ضرورت ہو گی۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا فلپائن یونیورسٹی کے طلباء کی جو انجمن ہے اُس کے آٹھ نو جوانوں نے بیعت کر لی۔اور انہیں یقین ہے کہ باقی طلباء میں بھی بہت جلد احمدیت پھیل جائے گی۔اسی طرح کولون جرمنی میں ایک احمدی تھے جن کا نام مبارک احمد شولر تھا وہ اس سال فوت ہو گئے ہیں۔ان کی کی وفات کی وجہ سے وہاں کی جماعت ختم ہو گئی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلہ میں اور کچھ اس کی فتنہ کے بدلہ میں جو اب کھڑا کیا گیا ہے ہمیں بعض نئی جماعتیں عطا فرمائی ہیں کیونکہ اُس کا وعدہ ہے کہ اگر تم واقع میں مومر قع میں مومن ہو گے اور پھر تم میں سے کوئی شخص تمہارے نظام دینی الگ ہو جائے گا تو ہم اس کے بدلہ میں کفار میں سے ایک قوم تمہیں دیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو پورا کیا اور ان کے بدلہ میں ہمیں کئی نئی جماعتیں عطا فرما دیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے فلپائن میں آٹھ طلباء نے بیعت کی ہے اور اس طرح وہاں ایک نئی جماعت قائم ہو گئی ہے۔اسی طرح جرمنی میں ایک جگہ Goppingen ہے۔وہاں بھی ایک نئی جماعت قائم ہوئی ہے۔پھر جرمنی سے ایک ایسے شخص کا جس کا ہمارے مبلغ سے پہلے کوئی تعلق نہیں تھا میرے نام ایک خط آیا۔وہ چونکہ جرمن زبان میں تھا اس لیے میں نے وہ خط