خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 417

$1956 417 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں ہوتی۔ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قربانی ہمیشہ عید کے بعد ہوتی ہے۔اب بعض علماء نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ اگر کوئی شخص عید سے پہلے قربانی کے گوشت کھانا چاہے تو وہ کیا کرے؟ گویا انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے حکم کو توڑنے میں بڑا مزا ہے۔کوئی نہ کوئی ایسی تدبیر سوچنی چاہیے کہ عید سے پہلے قربانی کا گوشت کھایا جا سکے۔چنانچہ انہوں نے اس کی تدبیر یہ نکالی کہ چونکہ عید کی نماز شہر میں ادا کرنے کا حکم ہے اس لیے اگر کوئی عید سے پہلے گوشت کھانا چاہے تو اس کا طریق یہ ہے کہ وہ اپنے کسی دوست کو بکری دے دے اور اُسے کہے کہ شہر سے تین میل پرے لے جاؤ اور وہاں اُسے ذبح کرو اور پھر اس کا گوشت شہر میں لے آؤ۔اس طرح عید سے پہلے گوشت بھی کھایا جا سکے گا اور حکم بھی پورا ہو جائے گا۔گویا ایسے مسلمانوں کو شریعت کے توڑنے میں ہی مزا آتا ہے اس پر عمل کرنے میں نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وَلَوْ اَنَّ أَهْلَ الْكِتَبِ أمَنُوا اتَّقَوْالَكَفَرُنَا عَنْهُمْ سَيَّاتِهِمُ اگر اہلِ کتاب ہماری باتوں پر ایمان لاتے اور پھر اس پر عمل بھی کرتے مگر بہانہ سازی سے نہیں بلکہ جس طرح متقی عمل کرتے ہیں تو ہم دو باتوں میں سے ایک بات ضرور کرتے لَكَفَرْنَا عَنْهُمْ سَيَّاتِهِمْ یا تو ہم اُن کے وہ دلوں سے بدیوں کی رغبت مٹا دیتے یا اُن کی بدیوں پر پردہ ڈال دیتے۔بہرحال اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور پاک صاف حاضر ہوتے۔اگر بدی کی رغبت ہم ان ان کے دلوں سے مٹا دیتے یا اُن کی بدیوں سے ہم اپنی آنکھیں بند کر لیتے تو دونوں صورتوں میں اُن کا حساب صاف ہو جاتا اور وہ ہر قسم کے خطرہ سے باہر نکل جاتے۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہاری فطرت میں جو یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ تمہاری غلطیوں سے چشم پوشی کی جائے اور تمہارے ساتھ عفو معاملہ کیا جائے۔اس کو پورا کرنے کے سامان موجود ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تم قرآن پر ایمان لاؤ اور پھر سچے دل سے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو یا ہم تمہارے دلوں سے بدی کی رغبت مٹا دیں گے یا تمہاری بدیوں