خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 368

$1956 368 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس نے کہا ہے کہ ہمارے دادا جان بڑے امیر آدمی تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کی جائیداد پر حضرت صاحب کے خاندان اور صدرانجمن احمدیہ نے قبضہ کر لیا۔اس روایت کے متعلق ایک احمدی دوست نے حلفیہ گواہی دی ہے۔اسی طرح ان کے ایک اور بیٹے نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو ( نَعُوذُ بِاللهِ ) لکھنا نہیں آتا تھا۔آپ کو جو شہرت نصیب ہوئی وہ ہمارے دادا جان کی وجہ سے ہوئی ہے۔ہمارے دادا جان کتاب لکھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس پر اپنے دستخط کر دیتے اور اسے اپنے نام سے شائع کر دیتے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی وصیت مل گئی ہے۔یہ وصیت آپ نے اپنی وفات سے چند دن قبل لکھی تھی۔میں وہ وصیت آپ لوگوں کو پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔لیکن اس وصیت کے سنانے سے قبل میں نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی ایک تحریر سناتا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نواب صاحب کے مکان پر ہی فوت ہوئے تھے اور آپ نے وفات سے چند دن قبل اپنی وصیت بھی انہی کے نی حوالہ کی تھی۔وہ میری طرف لکھتے ہیں۔سَلَّمَكُمُ اللهُ تَعَالَى السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سیدی حضرت خلیفۃ امسیح علیہ السلام ثانی حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب مرحوم مغفور خلیفتہ المسیح علیہ السلام اول کی وصیت جو میرے سپر د حضرت موصوف نے کی تھی۔اُس کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے۔اول وصیت حضرت موصوف یعنی جو کچھ اولاد و جائیداد کے متعلق درج فرمایا اُس کا پورا کرنا ضروری ہے۔میرے خیال میں ایک کمیٹی مندرجہ شخصوں کی بنائی (جاوے)۔خاکسار بوجہ حامل وصیت ہونے کے، مولوی سرورشاہ صاحب، پیر منظور محمد صاحب، میاں عبدالحی صاحب، مولوی شیر علی صاحب بی۔اے۔یہ کمیٹی مندرجہ ذیل کام کرے۔اول تحقیقات جائیداد حضرت خلیفة المسيح مرحوم مغفور - دوم تمام اثاث البيت مغفور۔دوم تمام اثاث البیت جس میں شرعاً دخل جائز ہو اور