خطبات محمود (جلد 37) — Page 318
$1956 318 خطبات محمود جلد نمبر 37 مرزا صاحب کو ناکام و نامراد کیا جائے۔کیا ایسے خبیثوں کا ہم ادب کریں گے یا ان کا مقابلہ کریں گے؟ ہم نے ان کے باپ کو اس لیے مانا تھا کہ وہ مسیح موعود کا موعود کا غلام تھا۔اگر وہ مرزا صاحب کے غلام نہ ہوتے اور اگر مرزا صاحب، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام نہ ہوتے تو ہم نہ نورالدین کو مانتے اور نہ مسیح موعود کو مانتے۔نورالدین کو ہم نے اس لیے مانا کہ وہ مسیح موعود کا غلام تھا اور مسیح موعود کو ہم نے اس لیے مانا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا۔اگر اس زنجیر کو توڑ دو تو پھر ایمان لانے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اگر میری وحی قرآن کے خلاف ہو تو میں اُسے تُھوک کی طرح پھینک دوں۔10 پس آپ نے جب اپنی وحی کے متعلق یہ الفاظ لکھ دیئے تو اس سے صاف پتا لگتا ہے کہ محض کسی بڑے آدمی کی طرف منسوب ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اصل بات جو دیکھنے والی ہوتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ بڑا آدمی جس راستہ پر چلا تھا آیا وہی راستہ چھوٹے نے بھی اختیار کیا ہے یا نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی دیکھ لو آپ ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ خدا کی قسم ! مجھے اپنی وحی کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر ویسا ہی یقین ہے جیسے قرآن کی صداقت پر یقین ہے 11 مگر پھر دوسری طرف آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر میری وحی قرآن کے خلاف ہو تو اُسے تُھوک کی طرح پھینک دو۔اسی طرح اگر کسی بڑے آدمی کی اولا د مسیح موعود کے مشن کو توڑنا چاہے یا مسیح موعود کی اولاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کو توڑنا چاہے تو ہم بغیر کسی ڈر کے اُس پر لعنت کرنے کے لیے کھڑے ہو جائیں نی گے اور کہیں گے کہ یہ بدبخت جس درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا ہے۔اُسی درخت کی جڑ پر تبر رکھنا چاہتا اور اسے کاٹ کر پھینک دینا چاہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر یہ خبیث کامیاب ہو جائیں تو کسی اور کو کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو مرزا صاحب نَعُوذُ بِاللہ ضرور کذاب ثابت ہوں گے اور دنیا کہے گی کہ جس مشن کے لیے کھڑے ہوئے تھے اُس میں وہ ناکام ہو گئے۔پس ہمیں کم از کم تین سو سال تک تو اکٹھا رہنا چاہیے تا کہ ہم عیسائیت کا مقابلہ کر سکیں اور اسلام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلا سکیں۔وہ