خطبات محمود (جلد 37) — Page 296
خطبات محمود جلد نمبر 37 296 $1956 مسلمان کے سوا اور کوئی سزا ہو سکتی ہے۔يَارَسُولَ اللہ ! اگر آپ نے میرے باپ کو قتل کی سزا دینی ہو تو میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اُسے قتل کر دوں کیونکہ اگر اُسے کسی اور مسلمان نے قتل کیا تو ممکن ہے کسی وقت مجھے شیطان ورغلا دے اور میں اس مسلمان کو اپنے باپ کا قاتل ہونے کی وجہ سے مار دوں۔آپ نے فرمایا ہمارا تمہارے باپ کو سزا دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔اس پر اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! پھر بھی میری یہ درخواست ہے کہ اگر آپ میرے باپ کو قتل کی سزا دینا چاہیں تو اس کام کے لیے مجھے حکم دیا جائے تا آئندہ کسی وقت شیطان مجھے اس کے قاتل کے متعلق ورغلا نہ سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ہمارا اُسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن اسے پھر بھی تسلی نہ ہوئی۔جب واپس آیا اور مدینہ کے اندر داخل ہونے لگا تو وہ نوجوان اپنے گھوڑے پر سے گود کر دروازہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ کو کہنے لگا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بیشک معاف کر دیا ہے لیکن میں نے تمہیں معاف نہیں کیا۔میں جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا ازالہ نہ کر لوں گا تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔گھوڑے سے نیچے اتر اور اپنی زبان سے سب لوگوں کے سامنے یہ اقرار کر کہ میں مدینہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں تلوار سے ابھی تمہارا سر قلم کر دوں گا۔چنانچہ وہ ڈر گیا اور گھوڑے سے نیچے اُتر آیا اور اس نے سب لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ میں مدینہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں۔اس کے بعد اُس کے بیٹے نے کہا چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں معاف کر دیا ہے اس لیے میں بھی تمہیں معاف کرتا ہوں۔اب تو شہر کے اندر داخل ہو سکتا ہے۔4 مدینہ والوں کو عزت تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملی تھی لیکن ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ چوہے بلوں سے باہر نکل آئے اور کہنے لگے ہم رئیس ہیں، ہم معزز اور سردار ہیں۔حالانکہ کچھ دن قبل وہ یہودیوں کے غلام تھے اور اگر وہ اب رئیس گئے تھے تو صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل بنے تھے۔بالکل اُسی طرح اب