خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 295

$1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 غلام 295 شہر بسا رہے ہیں دونوں فریق اپنی اپنی جگہ پورا زور لگا رہے ہیں۔اب ہم دیکھیں گے کہ ان دونوں بستیوں میں سے کونسی بستی پہلے آباد ہوتی ہے۔اُس وقت میں نے درد صاحب کو کہا آپ اسے جواب میں ایک چٹھی لکھیں اور اس پر صرف ربوہ کا لفظ لکھ دیں اور کہیں کہ تمہارے مضمون کا یہی جواب ہے۔اب دیکھ لو کہ لاہور اب بھی ٹوٹا پڑا ہے بلکہ جب وہاں سیلاب آیا اور متعدد مکانات گر گئے تو میں نے یہاں سے تین سو معمار وہاں بھیجا اور انہوں نے وہاں مکانات تعمیر کیے لیکن وہاں سے کوئی ایک معمار بھی یہاں نہیں آیا۔پس ربوہ تو شہر کی حیثیت اختیار کر گیا لیکن لاہور ابھی ٹوٹا پڑا ہے۔در حقیقت کسی قوم کا غلبہ اُسی وقت مفید ہوتا ہے جب وہ اپنے ماضی کو نہ بھلائے۔طاقت اور قوت حاصل ہونے پر منافقت شروع نہ کر دے۔تم دیکھو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تھے اُس وقت مدینہ کے سارے باشندے یہودیوں کے تھے۔یہودیوں نے پورے شہر پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مدینہ والوں کو دوبارہ عزت ملی اور پھر انہوں نے دور دور کے علاقے فتح کر کے ان پر حکومت کی۔لیکن ایک وقت وہ بھی آیا جب مدینہ کے ایک منافق نے یہ کہا تم مجھے مدینہ میں واپس لوٹنے دو۔پھر تم دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ کم بخت خود سب سے زیادہ ذلیل شخص یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے نکال دے گا۔3 وہ خبیث خود سے زیادہ ذلیل تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز تھے لیکن وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ذلیل قرار دینے لگ گیا۔گویا ایک وقت تو یہ تھائی کہ سارا مدینہ یہودیوں کا غلام تھا لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اُن کی غلامی دور ہوئی، انہیں آزادی نصیب ہوئی تو ان میں سے ایک شخص کے دماغ میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ وہ آپ کو مدینہ سے نکال دے گا۔لیکن خدا تعالیٰ کو بھی اپنے رسول کے لیے غیرت تھی۔اس نے اس شخص کو فوراً سزا دی۔اس کا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔وہ مخلص مسلمان تھا۔اس نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ کو میرے باپ کے متعلق کوئی خبر پہنچی ہے ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں پہنچی ہے۔اس نے عرض کیا یارَسُولَ اللہ ! میرے باپ کے لیے قتل