خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 294

$1956 294 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہے۔کے دن ختم ہو جاتے ہیں، ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور قوت اور طاقت انہیں حاصل ہو جاتی ہے تو ان میں منافقت پیدا ہو جاتی ہے۔پس اس آیت کا بظاہر تو یہ مفہوم ہے کہ اے مومنو! تمہیں جمعہ کے دن پکارا جائے تو تم تجارت وغیرہ چھوڑ کر نماز کے لیے آ جاؤ۔لیکن درحقیقت اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! جب تم پر طاقت اور عظمت کا زمانہ آ جائے تو ایسا نہ ہو کہ تم سُست ہو جاؤ، تم میں منافقت پیدا ہو جائے اور تم دنیا کو دین پر مقدم کرنے لگ جاؤ۔تم پہلے سے بھی زیادہ دین کی خدمت میں لگ جاؤ۔حقیقت یہ ہے کہ جب کسی قوم کو طاقت اور قوت حاصل ہو جاتی ہے تو عام طور پر انہیں اپنی پہلی حالت بھول جاتی دس سال کی بات ہے کہ ہندوؤں نے قادیان پر حملہ کر کے احمدیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور وہ بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان میں ہجرت کر کے آ گئے۔اُس وقت لاکھوں آدمیوں کو رستہ میں ہی مار دیا گیا۔ایک اندھیر مچا ہوا تھا اور ہر طرف چیخ و پکار بلند کی جا رہی تھی۔اُس وقت میں لاہور آیا اور یہاں آ کر میں نے ایسا انتظام کیا کہ قادیان کے رہنے والوں کے لیے لاریاں میسر آ گئیں۔چنانچہ میں نے اُس وقت حکم دے دیا کہ کوئی شخص پیدل چل کر نہ آئے۔اگر کوئی شخص پیدل چل کر آیا تو وہ میرا نافرمان ہو گا۔چنانچہ قادیان کے رہنے والے پوری حفاظت کے ساتھ لاریوں پر پاکستان آئے۔صرف وہ لوگ جنہوں نے میرا حکم ہیں مانا تھا اور وہ لاریوں کا انتظار کیے بغیر قافلوں کے ساتھ پیدل چل پڑے تھے انہیں بٹالہ یا اس کے قریب دیہات کے پاس حملہ آوروں نے مار ڈالا۔لیکن جن لوگوں نے صبر کا نمونہ دکھایا اور میرے حکم کے مطابق انہوں نے اُس وقت تک قادیان نہ چھوڑا جب تک کہ لاہور سے لا ریاں وہاں نہ پہنچ گئیں وہ برات کی طرح پاکستان آ گئے۔پھر میں نے انہیں ربوہ میں لا کر بسایا اور اب ربوہ ایک شہر بن گیا ہے اور یہاں مختلف صنعتیں بھی شروع ہو گئی ہیں اور ہر ایک شخص کو نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے کس طرح ترقی دے رہا ہے۔پاکستان کا ایک اخبار نویس جو لیڈر بھی ہے اور مسلم لیگ کا ممبر ہے 51 1950ء میں ربوہ آیا اور واپس جا کر اُس نے ایک مضمون لکھا کہ ایک طرف لاہور کے پاس امپروومنٹ ٹرسٹ ایک نئی بستی آباد کر رہا ہے اور دوسری طرف مرزائی ربوہ کا