خطبات محمود (جلد 37) — Page 5
$1956 5 خطبات محمود جلد نمبر 37 ایک دعوت کا انتظام کیا۔میں بھی وہاں چلا گیا۔انہوں نے بڑے بڑے آدمی وہاں بلائے ہوئے تھے۔میں اس انتظار میں تھا کہ کوئی اعتراض کرے تو میں اس کا جواب دوں کہ نواب صاحب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اس طرح بات شروع کی کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ امام جماعت احمد یہ یہاں تشریف لائے ہیں۔جو شخص کسی قوم کا لیڈر ہوتا ہے ہمیں اُس کا احترام کرنا چاہیے۔وہ ہمیں دین کی باتیں سنائیں گے خواہ ہم مانیں یا نہ مانیں ان سے ہمیں فائدہ پہنچے گا۔اس کے بعد وہ تقریر کرتے ہوئے یکدم جوش میں آگئے اور کہنے لگے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو مبعوث کیا ہے اور اُس نے دعوی کیا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں۔یہ دعوی کوئی معمولی دعوای نہیں۔اگر وہ اپنے اس دعوی میں سچا ہے اور ہم نے اسے قبول نہ کیا تو لازماً ہم خدا تعالیٰ کے مجرم ہوں گے اور اُس کا عذاب ہم پر آئے گا۔اس لیے آپ لوگوں کو سنجیدگی سے اس کے پر غور کرنا چاہیے۔جب نواب صاحب اپنی تقریر ختم کر کے بیٹھ گئے تو میں نے اُن سے کہا آپ نے تو اپنی بیعت کو مخفی رکھنے کی اجازت لی تھی اور میں نے آپ کو اجازت دے دی تھی۔لیکن اس وقت آپ نے خود ہی اسے ظاہر کر دیا ہے۔انہوں نے کہا مجھے تقریر کرتے کرتے جوش آ گیا تھا اس لیے میں ضبط نہیں کر سکا۔غرض دوستوں کو چاہیے کہ وہ تبلیغ کی طرف توجہ کریں اور دوسروں تک سنجیدگی سے اپنے خیالات کو پہنچائیں۔ا مجھے یاد ہے کہ پہلے پہلے جب میں لاہور آیا کرتا تھا تو گھٹی والی مسجد میں نماز ہوتی تھی۔اس وقت اگلی صف میں جتنے دوست بیٹھے ہیں اُس وقت سارے لاہور میں قریباً اتنے ہی احمدی ہوتے تھے لیکن اب جمعہ کی نماز میں بعض دفعہ یہاں پندرہ پندرہ سو دوست جمع ہوتی جاتے ہیں بلکہ ان کی تعداد اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ممکن ہے آج بھی اس قدر لوگ موجود و ہوں لیکن کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ معلوم نہ ہوتے ہوں۔بہر حال جمعہ کی نماز میں اڑھائی اڑھائی سو کی تعداد میں سائیکل ہی ہوتے ہیں۔ابھی مجھے کسی نے بتایا ہے کہ پچھلے جمعہ کے موقع پر بارہ موٹریں اور ایک بڑی تعداد میں سائیکلیں اور موٹر سائیکلیں جمع ہو گئی تھیں۔غرض جب گمٹی والی مسجد میں نماز ہوتی تھی اُس وقت جماعت کی تعداد یہاں بہت تھوڑی تھی لیکن اس