خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 165

$1956 165 خطبات محمود جلد نمبر 37 ابھی باقی ہیں۔مثلاً مصر میں ہماری جماعت کے امیر فوت ہوئے تو خود جنرل نجیب اور کرنل ناصر نے ہمدردی کی تاریں اُن کے خاندان کو دیں۔بلکہ ان میں سے ایک نے دو تاریں دیں۔ایک تار ان کے اپنے خاندان کے رئیس ہونے کی وجہ سے اور ایک تار ان کے جماعت کے امیر ہونے کی حیثیت سے۔لیکن یہ باتیں اُن علاقوں میں نہیں پائی جاتیں جو ہندو اثر کے نیچے ہیں۔مثلاً یہی دیکھ لو جب میں لاہور جاتا ہوں تو وہاں ہماری بڑی جماعت ہے اور اسمبلی کے پچیس تمیں ممبر ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے ووٹوں سے ممبر بنے ہوتے ہیں لیکن چونکہ وہ ہندو اثر کے نیچے رہے ہیں اس لیے وہ ملنے سے گھبراتے ہیں۔لیکن جب میں پشاور گیا تو اُس وقت جو پارٹی بھی مجھے دی گئی اُس میں صوبائی وزیر اعظم خان عبدالقیوم خاں صاحب اور دو تین اور وزیر اور جوڈیشل کورٹ کے جج بھی شریک ہوئے۔اس کے مقابلہ میں لاہور میں بعض چھوٹے چھوٹے رئیس بھی ہماری پارٹیوں میں آنے سے گھبراتے ہیں۔حالانکہ اُن پر ہمار- بھی ہوتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ لاہور کا علاقہ ہندو اثر کے نیچے رہا ہے اور پشاور اسلامی اثر کے نیچے ہے اس لیے وہاں ابھی تک اسلام کا اثر پایا جاتا ہے۔افغانستان میں جو 13 احمدیوں کو رہا کیا گیا ہے اس کو بھی میں اسلام کے اثر کا ہی نتیجہ سمجھتا ہوں بلکہ داؤد جان صاحب کو بھی جو شہید کر دیئے گئے ہیں علاقہ کے گورنر نے بچانے کی پوری کوشش کی لیکن ہجوم نے حملہ کر کے انہیں باہر نکال لیا اور گولی مار کر شہید کر دیا۔وہاں ہر شخص کے پاس ہتھیار ہوتے ہیں اور جب لوگ جوش میں آ جاتے ہیں تو حاکم بھی ڈر جاتے ہیں۔بہر حال میرا تجربہ یہی ہے کہ جن ممالک میں اسلامی اثر پایا جاتا ہے وہاں کے رہنے والوں میں زیادہ اچھے اخلاق پائے جاتے ہیں اور ان میں زیادہ تواضع ہوتی ہے اور ان میں زیادہ انکسار پایا جاتا ہے۔لیکن جن لوگوں پر اسلامی اثر نہیں یا وہ غیر قوموں کے ساتھ رہ رہ کر اپنی اسلامی روایات کو بھول گئے ہیں اُن میں اب اسلام والی باتیں نہیں پائی جاتیں۔بلکہ ان میں غرور زیادہ پایا جاتا ہے۔ورنہ اسلام کی برکت سے اسلامی ممالک میں بھی اگر چہ ہماری جماعت کی مخالفت کی جاتی ہے مگر تعلقات کے بارہ میں ان کی حالت دوسروں کی نسبت بہت زیادہ اچھی ہے۔ابھی پچھلے دنوں مجھے ایران کے ایک مذہبی لیڈر کا خط آیا جس میں اُس نے