خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 131

$1956 131 خطبات محمود جلد نمبر 37 دے دیں۔یہ بات بھی قابل عمل نہیں کیونکہ جو شخص اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے تیار نہیں اُس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی جائیداد بھی وقف کر دے کہاں تک درست ہوسکتا ہے۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ کچھ عرصہ کے وقف کا دستور رائج کیا جائے مگر بات بھی قابلِ عمل نہیں کیونکہ ایک واقف زندگی کے تیار کرنے پر بڑی بھاری رقم خرچ ہو۔ہے۔اگر تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کسی واقف زندگی کو صرف تین چار سال کے لیے رکھا جائے اور پھر اُسے فارغ کر دیا جائے تو اس سے جماعت کو مالی نقصان پہنچے گا۔اور نہ صرف ނ جماعت کو مالی نقصان پہنچے گا بلکہ اُس واقف زندگی کو بھی نقصان پہنچے گا کیونکہ جب وہ تبلیغ۔واپس آئے گا تو اُس کی ملازمت والی عمر نہیں رہے گی۔گویا کچھ عرصہ کے وقف کا طریق رائج کرنے سے نہ صرف سلسلہ کا روپیہ ضائع ہو گا بلکہ واقف زندگی بھی کسی سرکاری ملازمت کے حصول کے قابل نہیں رہے گا۔پس یہ تجویز گو بظاہر ٹھیک نظر آتی ہے لیکن در حقیقت معقول غرض یہ مختلف تجاویز ہیں جو میرے خطبات کے بعد باہر کے بعض احمدی دوستوں نے لکھی ہیں اور ان کے متعلق میں نے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جس شخص کی قسمت میں یہ لکھا ہو کہ وہ دین کی خدمت کرے گا اُسے اس کی توفیق مل جاتی ہے اور اگر اس خدمت میں اس کی جان بھی چلی جائے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا۔اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگِ حسنین کے موقع پر جب ہزاروں تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی تو مسلمانوں کی سواریاں بدک کر میدانِ جنگ سے بھاگ پڑیں۔در حقیقت اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب اسلامی لشکر روانہ ہوا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ چونکہ ہم حدیث العہد ہیں اور اس سے قبل کسی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے اس لیے اس موقع پر ہمیں بھی قربانی پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور دو ہزار نو مسلم بھی اسلامی لشکر کے ساتھ چل پڑے۔یہ لوگ کفار کے اچانک اور دو چی طرف حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔صحابہ گو اس قسم کی تکالیف اُٹھانے کے عادی تھے مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اونٹ اُن کی صفوں میں سے