خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 594

$1956 594 خطبات محمود جلد نمبر 37 سے میرے اور حضرت علی کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے اور اس وقت سے فائدہ اُٹھا کر تم اسلامی ملک فتح کر لو گے۔لیکن یاد رکھو! اگر تم نے اسلامی ملک کی طرف نگاہ بھی اُٹھائی تو سب۔پہلا جرنیل جو علی کی طرف سے تم سے لڑنے کے لیے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔یہ پیغام پہنچتے ہی رومی بادشاہ نے اُس پادری کو بلایا اور کہا تم سچ کہتے تھے۔ہمارے لیے مسلمانوں سے لڑائی کرنا بیکار ہے۔ہم نے سمجھا تھا کہ مسلمانوں کے باہمی انتشار کی وجہ سے ہم جیت جائیں گے مگر یہ لوگ پھر بھی اکٹھے ہیں۔اُس وقت حضرت معاویہؓ کے ماتحت صرف شام کا علاقہ تھا لیکن بعد میں بنوامیہ اور بنوعباس کی حکومتوں کے ماتحت بڑا وسیع علاقہ رہا اور وہ حضرت معاویہ کی حکومت سے بہت زیادہ طاقتور تھیں۔ان کے ماتحت افریقہ کے انتہائی کونوں سے لے کر ہندوستان کے انتہائی سرے تک کے علاقے تھے۔عراق بھی ان کے پاس تھا، شام بھی ان کے پاس تھا، مصر بھی ان کے پاس تھا، لیبیا بھی ان کے پاس تھا، تیونس بھی ان کے پاس تھا ، مراکش بھی ان کے پاس تھا مگر باوجود اس کے وہ اس طرح گرے کہ ان میں دوبارہ اُٹھنے کی ہمت نہ رہی اور ساری دنیا میں مسلمان محکوم ہو کر رہ گئے۔اس کے مقابلہ میں حضرت معاویہ کے پاس ایک چھوٹی سی حکومت تھی مگر اُس میں اس قدر طاقت تھی کہ انہوں نے روم کے بادشاہ کے دانت کھٹے کر دیئے اور جب اس نے ارادہ کیا کہ اسلامی ملک پر حملہ کرے تو انہوں نے اُسے ایسا جواب دیا کہ وہ کانپ اُٹھا اور اُس نے حملہ کا ارادہ چھوڑ دیا۔پس دنیا میں قومی ترقی کے لیے نظام بڑی ضروری چیز ہے۔ایک بیوقوف پیغامی لکھتا ہے کہ مبائعین کو صرف اس لیے کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ نظام کی کشش نے انہیں ان سے منسلک کر رکھا ہے۔حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ابوسفیان کہتا کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لیے جیتے ہیں کہ ان کے ساتھ خدا تھا، ان کے ساتھ جتھا اور نظام تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم ضرور جیت جاتے۔حالانکہ نظام ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی علامت ہوتی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ اُس نے