خطبات محمود (جلد 37) — Page 589
$1956 589 خطبات محمود جلد نمبر 37 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا کہو لَنَا مَوْلَى وَلَا مَوْلى كم خدا تعالیٰ ہمارا والی اور نگران ہے لیکن تمہارا کوئی والی اور نگران نہیں۔چنانچہ آپ کی یہ ت سچی نکلی۔مسلمان پھر جمع ہوئے اور انہوں نے کفار کو شکست دے دی۔غرض جنگِ اُحد میں جو شکست مسلمانوں کو اُٹھانی پڑی وہ محض پیغامی عقیدہ کی وجہ سے تھی۔اگر اس وقت کوئی پیغامی عقیدہ نہ ہوتا اور وہ لوگ سمجھتے کہ ہمیں تو اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ کی اطاعت کا حکم ہے اور یہ نہ کہہ دیتے کہ فتح کے بعد بھی اس مقام پر کھڑے رہنا بیوقوفی ہے تو مسلمانوں کو شکست نہ اُٹھانی پڑتی لیکن ان لوگوں نے پیغامی عقیدہ کے ماتحت اپنے افسر کی بات نہ مانی اور اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زخمی ہو گئے اور ایسی حالت میں مبتلا ہوئے کہ صحابہ کو خیال پیدا ہوا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔پیغامی عقیدہ یہی ہے کہ ہر بات میں اطاعت کرنی ناجائز ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بات کے یہ کہاں معنے ہیں کہ چوری یا زنا کا حکم بھی اس میں شامل سمجھ لیا جائے۔اگر کوئی امام چوری یا زنا کا حکم دے گا تو وہ آپ ہی اپنے آپ کو اسلام سے خارج کر لے گا۔اطاعت کے مفہوم میں بہر حال وہی سوال آئے گا جو شریعت کے مطابق ہوگا اور یہ سیدھی بات ہے کہ ایسے امور میں اگر نظام کو قائم رکھنا ہے تو امام کی بات مانی جائے گی کیونکہ کسی کو کیا علم ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔نہ امام کو مستقبل کا علم ہو سکتا ہے اور نہ مقتدی کو۔پھر یہ کیونکر سمجھ لیا جائے کہ امام کو تو مستقبل کا علم نہیں صرف مقتدی کو مستقبل کا علم ہے۔اس لیے مقتدی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ مستقبل کے متعلق فیصلہ کر لے اور امام کے خلاف کھڑا ہو جائے لیکن امام اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ مستقبل کے متعلق کوئی اندازہ کی لگائے اور مقتدیوں کو کوئی حکم دے۔اگر مستقبل کا کوئی پتا نہیں لگ سکتا تو نہ امام کو اس کا پتا لگ سکتا ہے اور نہ مقتدی کو اس کا علم ہو سکتا ہے۔اور اگر مستقبل کا پتا لگ سکتا ہے تو امام کو بھی اس کا پتا لگ سکتا ہے اور مقتدی کو بھی اس کا علم ہوسکتا ہے۔گویا اگر مستقبل کا پتا نہیں لگ سکتا تو امام اور مقتدی دونوں کو نہیں لگ سکتا اور اگر پتا لگ سکتا ہے۔تو امام اور مقتدی دونوں کو