خطبات محمود (جلد 37) — Page 588
$1956 588 خطبات محمود جلد نمبر 37 پرچم اور اجتہادی بات وہی ہو گی جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہو گی اور مستقبل کا علم نہ امام کو ہوتا ہے اور نہ مقتدی کو ہوتا ہے تو پھر اختلاف کس بات کا رہا۔امام ایک ایسے زمانہ کے متعلق بات کہتا ہے ہے جس کا نہ اُسے علم ہے اور نہ مقتدی اسے جانتے ہیں۔پھر ماتحت کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ کہے کہ میں تو اپنی عقل کے مطابق کام کروں گا اور امام کی بات نہیں مانوں گا۔اگر وہ ایسا کرے گا تو نتیجہ وہی ہو گا جو اُحد کے واقعہ میں ہوا۔اُحد کی جنگ میں جب بعض مسلمانوں نے پیغامیت کا مظاہرہ کیا تو اس کے نتیجہ میں دشمن شکست کے بعد جیتا۔کفار پیچھے کی طرف مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا۔یہاں تک کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی خیال کر لیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔گو خدا تعالیٰ نے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 2 کی پیشگوئی کے مطابق آپ کو بچا لیا لیکن یہ خبر مدینہ میں بھی جا پہنچی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔چنانچہ ابوسفیان نے اُس وقت بڑے زور سے پکارا اور کہا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مار دیا ہے۔گویا اُس نے فخر سے اس بات کا اعلان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت اسلام کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان کی بات کا جواب نہ دیا تا ایسا نہ ہو کہ دشمن حقیقت حال سے واقف ہو کر پھر حملہ کر دے۔جب اسلامی لشکر کی طرف سے اس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ اُس کا خیال درسہ درست ہے۔پھر اس نے بڑے زور سے پکار کر کہا کہ ہم نے ابوبکر کو بھی مار دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو بھی حکم دیا کہ کوئی جواب نہ دیں۔پھر ابوسفیان نے بلند آواز سے کہا کہ ہم نے عمر کو بھی مار دیا ہے۔حضرت عمر نے جو بہت جوشیلے تھے اس کے جواب میں یہ کہنا کی چاہا کہ ہم لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارا سر توڑنے کے لیے موجود ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عمر! خاموش رہو اور مسلمانوں کو تکلیف میں نہ ڈالو۔جب ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر تینوں کو شہید کر دیا ہے تو اُس نے بلند آواز سے کہا لَنَا عُزی وَلَا عُزّى لَكُمْ دیکھو! غربڑی دیوتا ہمارے ساتھ ہے تمہارے ساتھ کوئی عربی نہیں۔اس پر